مسند اسحاق بن راهويه
كتاب المناسك— اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب: حج اور عمرہ میں سر منڈوانے کی فضیلت
حدیث نمبر: 315
أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، نا شُعْبَةُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أُمِّ الْحُصَيْنِ، عَنْ جَدَّتِهِ قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ بِمِثْلِهِ.ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدہ ام الحصین رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ والہ وسلم کو اسی مثل فرماتے ہوئے سنا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدہ ام الحصین رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اسی مثل فرماتے ہوئے سنا۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:315]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:315]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ حج یا عمرہ کے موقع پر سر کے بال منڈوانا زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈوانے والوں کے حق میں دوبار دعا فرمائی اور کتروانے والوں کے لیے اس کے بعد دعا فرمائی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے موقع پر سر کے بال منڈوائے تھے جیسا کہ سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنا سر منڈایا تھا۔ (بخاري، کتاب الحج، رقم: 1726)
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ حج یا عمرہ کے موقع پر سر کے بال منڈوانا زیادہ فضیلت رکھتا ہے۔ کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سر منڈوانے والوں کے حق میں دوبار دعا فرمائی اور کتروانے والوں کے لیے اس کے بعد دعا فرمائی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کے موقع پر سر کے بال منڈوائے تھے جیسا کہ سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حجۃ الوداع کے موقع پر اپنا سر منڈایا تھا۔ (بخاري، کتاب الحج، رقم: 1726)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 315 سے ماخوذ ہے۔