مسند اسحاق بن راهويه
كتاب المناسك— اعمال حج اور اس کے احکام و مسائل
باب: احرام باندھنے کے بعد خوشبو لگانا جائز نہیں
حدیث نمبر: 310
أَخْبَرَنَا أَبُو أُسَامَةَ، نا عُمَرُ بْنُ سُوَيْدٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَةَ بِنْتَ طَلْحَةَ، تَقُولُ: أَخْبَرَتْنِي عَائِشَةُ أُمُّ الْمُؤْمِنِينَ قَالَتْ: كُنَّ يَخْرُجْنَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِنَّ الضِّمَادُ بِالْمِسْكِ الْمُطَيَّبِ قَبْلَ أَنْ يُحْرِمْنَ ثُمَّ يَعْرَقْنَ فَيُرَى ذَلِكَ فِي جِبَاهِهِنَّ فَيَرَاهُنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَا يَنْهَاهُنَّ.ترجمہ: محمد سرور گوہر
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ (حج کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوا کرتی تھیں، ان پر احرام باندھنے سے پہلے خوشبودار کستوری کی لیپ ہوتی تھی، پھر انہیں پسینہ آتا، اس کا اثر ان کے چہروں پر نظر آیا کرتا تھا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھتے اور آپ انہیں منع نہیں کیا کرتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: وہ (حج کے لیے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ روانہ ہوا کرتی تھیں، ان پر احرام باندھنے سے پہلے خوشبودار کستوری کی لیپ ہوتی تھی، پھر انہیں پسینہ آتا، اس کا اثر ان کے چہروں پر نظر آیا کرتا تھا، پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں دیکھتے اور آپ انہیں منع نہیں کیا کرتے تھے۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:310]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:310]
فوائد:
احرام باندھنے کے بعد کسی قسم کی خوشبو لگانا جائز نہیں ہے۔ لیکن اگر خوشبو احرام باندھنے سے پہلے لگائی ہو اور اس کا اثر احرام باندھنے کے بعد بھی ہو تو جائز ہے۔ جیسا کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو دیکھ رہی ہوں جب کہ آپ کو احرام باندھے تین دن ہوچکے ہیں۔ (سنن ابن ماجة، ابواب المناسک، رقم: 2928)
احرام سے قبل خوشبو لگانا سنت ہے۔ جیسا کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے سے قبل اچھی طرح خوشبو لگاتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے۔ (مسلم، کتاب الحج، باب استحباب الطیب قبل الاحرام)
احرام باندھنے کے بعد کسی قسم کی خوشبو لگانا جائز نہیں ہے۔ لیکن اگر خوشبو احرام باندھنے سے پہلے لگائی ہو اور اس کا اثر احرام باندھنے کے بعد بھی ہو تو جائز ہے۔ جیسا کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے انہوں نے فرمایا: گویا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مانگ میں خوشبو دیکھ رہی ہوں جب کہ آپ کو احرام باندھے تین دن ہوچکے ہیں۔ (سنن ابن ماجة، ابواب المناسک، رقم: 2928)
احرام سے قبل خوشبو لگانا سنت ہے۔ جیسا کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو احرام باندھنے سے قبل اچھی طرح خوشبو لگاتی تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم احرام باندھتے۔ (مسلم، کتاب الحج، باب استحباب الطیب قبل الاحرام)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 310 سے ماخوذ ہے۔