حدیث نمبر: 3
(حديث مرفوع) أَخْبَرَنَا الْمُقْرِئُ ، نا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي أَبُو هَانِئٍ حُمَيْدُ بْنُ هَانِئٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ مُسْلِمِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يُحَدِّثُكُمْ نَاسٌ بِأَحَادِيثَ لَمْ تَسْمَعُوهَا أَنْتُمْ وَلا آبَاؤُكُمْ ، فَإِيَّاكُمْ وَإِيَّاهُمْ " .
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں پر ایک ایسا وقت بھی آئے گا کہ لوگ تمہیں ایسی ایسی احادیث سنائیں گے جنہیں نہ تم نے سنا ہو گا، نہ تمہارے آباء و اجداد نے، پس تم ان لوگوں اور ان روایات سے اجتناب کرنا۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب العلم / حدیث: 3
تخریج حدیث «مسلم، باب النهي عن الرواية الخ، رقم: 6 ۔ مسند احمد: 2/ 321۔ صحيح ابن حبان، رقم: 6766»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
´بےسند اور موضوع روایت سے اجتناب کرنا`
. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا وقت بھی آئے گا کہ لوگ تمہیں ایسی ایسی احادیث سنائیں گے جنہیں نہ تم نے سنا ہو گا، نہ تمہارے آباء و اجداد نے، پس تم ان لوگوں اور ان روایات سے اجتناب کرنا۔ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب العلم/حدیث: 3]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کوئی بھی حدیث ہو اس کو اچھی طرح جانچ لینا چاہیے، بےسند اور موضوع روایات بیان کرنے سے اجتناب کرنا چاہیے۔
کیونکہ نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔
جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «من كذب على متعمدا فليتبوا مقعده من النار»
’’ جس نے جان بوجھ کر میری طرف جھوٹ منسوب کیا وہ اپنا ٹھکانا جہنم بنا لے۔ دیکھیے: [حديث و شرح؛263]
محدثین، محققین کا ہم پر احسان عظیم ہے کہ ان لوگوں نے جہاں احادیث کی صحت و ضعف کو واضح کیا، وہاں تحقیق کے اصول و ضوابط بھی وضع کیے اور بعد والوں کے آسانی پیدا کی۔ «رحمهم الله عليهم اجمعين»
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 3 سے ماخوذ ہے۔