مسند اسحاق بن راهويه
كتاب الزكوٰة— زکوٰۃ کے احکام و مسائل
باب: رشتہ داروں پر صدقہ کا مال خرچ کرنے کا اجر
حدیث نمبر: 295
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: جَاءَتِ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّ لِي حُلِيًّا، وَإِنَّ فِي حِجْرِي بَنِي أَخٍ أَيْتَامًا أَفَأَجْعَلُ زَكْوَةَ حُلِيِّ فِيهِمْ؟ فَقَالَ: ((نَعَمْ)).ترجمہ: محمد سرور گوہر
ابراہیم (نخعی رحمہ اللہ) نے بیان کیا: سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو عرض کیا: اللہ کے رسول! میرے پاس زیور ہے اور میرے یتیم بھتیجے میری پرورش میں ہیں، تو کیا میں اپنے زیورات کی زکوٰۃ ان پر خرچ کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“