حدیث نمبر: 284
أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ، عَنْ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَيْسَ الْغَنَاءُ عَنْ كَثْرَةِ الْعَرَضِ، وَلَكِنَّ الْغَنَاءَ غِنَى النَّفْسِ)) .
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کثرت مال و متاع تونگری نہیں، لیکن دل کی تونگری اصل تونگری ہے۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الزكوٰة / حدیث: 284
تخریج حدیث «السابق»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’کثرت مال و متاع تونگری نہیں، لیکن دل کی تونگری اصل تونگری ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:284]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا زیادہ مال ہونا مالداری نہیں ہے، اصل مالداری نفس کی مالداری ہے بہت سے لوگ زیادہ پیسے والے ہوتے ہیں لیکن وہ ہمیشہ مال ہی کے طالب رہتے ہیں اور کمانے کی دھن میں رہتے ہیں کھانے پینے کی بھی انہیں فرصت نہیں ہوتی، اللہ کی راہ میں تو دیتے ہی نہیں بلکہ اپنی جانوں پر بھی خرچ نہیں کرتے۔ یہ مالداری نہیں اصل مالداری یہ ہے کہ دل غنی ہو، تھوڑا ہو مگر دل مطمئن ہو، اسی میں سے اپنے اوپر اپنے اہل وعیال پر مہمانوں پر دیگر بندگان خدا پر خرچ کرے۔
ایسا شخص حقیقت میں مالدار ہے اگر کچھ بھی اس کے پاس نہ ہو تب بھی وہ صبر وقناعت کے ساتھ اللہ ذوالجلال کے ذکر میں لگا رہتا ہے دوسروں کی طرف اس کی نیت نہیں جاتی اور نہ لوگوں سے سوال کرتا ہے۔ ایسے شخص کا دل غنی ہے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’وہ شخص کامیاب ہوگیا جس نے اسلام قبول کر لیا اور ضرورت کے مطابق روزی دیا گیا اور اللہ نے اس کو جو کچھ دیا اس پر اس کو قناعت کی توفیق سے نواز دیا۔‘‘ (مسلم، کتاب الزکاۃ، رقم: 1054)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 284 سے ماخوذ ہے۔