حدیث نمبر: 278
أَخْبَرَنَا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، نا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا أُتِيَ بِطَعَامٍ مِنْ غَيْرِ أَهْلِهِ سَأَلَ عَنْهُ، فَإِنْ قِيلَ: هَدِيَّةٌ، أَكَلَ، وَإِنْ قِيلَ: صَدَقَةٌ، قَالَ: كُلُوا وَلَمْ يَأْكُلْ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کسی کے گھر کا کھانا پیش کیا جاتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے متعلق پوچھتے، اگر بتایا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ تناول فرماتے، اور اگر کہا جاتا کہ صدقہ ہے تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: ”کھاؤ۔“ اور آپ تناول نہ فرماتے۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الزكوٰة / حدیث: 278
تخریج حدیث «بخاري ، كتاب اللقطة ، باب اذا وجد ثمرة فى الطريق : رقم : 2432 . مسلم ، كتاب الزكاة ، باب قبول النبى الهدية ورده الصدقه : 1077 . مسند احمد : 406/2 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کسی کے گھر کا کھانا پیش کیا جاتا تو آپ اس کے متعلق پوچھتے، اگر بتایا جاتا کہ یہ ہدیہ ہے تو آپ تناول فرماتے، اور اگر کہا جاتا کہ صدقہ ہے تو پھر آپ فرماتے: ’’کھاؤ‘‘ اور آپ تناول نہ فرماتے۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:278]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم صدقہ نہ کھاتے تھے، کیونکہ آپ کی ذات اور آپ کی آل پر صدقہ حلال نہ تھا۔ کیونکہ یہ لوگوں کی میل کچیل ہوتی ہے، اس لیے اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں تھا کہ اس کا نبی اور نبی کی آل صدقہ استعمال میں لائیں۔ اس کے علاوہ اور بھی بہت ساری حکمتیں تھیں۔ (مزید دیکھئے حدیث وشرح: 50۔ 51)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 278 سے ماخوذ ہے۔