حدیث نمبر: 277
وَبِهَذَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((الْمُعْتَدِي فِي الصَّدَقَةِ كمَانِعِهَا)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

اسی سند سے مروی ہے: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ میں حد سے بڑھنے والا اسے منع کرنے والے کی طرح ہے۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الزكوٰة / حدیث: 277
تخریج حدیث «سنن ابوداود ، كتاب الزكوة ، باب فى زكاة السائمة ، رقم : 1585 . سنن ترمذي ، ابواب الزكاة ، باب ماجاء فى المعتدي فى الصدقة ، رقم : 646 . صحيح ترغيب وترهيب ، رقم : 785 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
اسی سند سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’صدقہ میں حد سے بڑھنے والا اسے منع کرنے والے کی طرح ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:277]
فوائد:
مذکورہ حدیث کا یہ مطلب ہے کہ جو زکوٰۃ وصول کرتا ہے وہ جتنی زکوٰۃ بنتی ہے، اس سے زیادہ طلب نہ کرے اور جو درمیانے درجے کے جانور ہیں ان کو وصول کرنے کے بجائے بہترین جانور نہ مانگے، اگر وصول کرنے والا ایسے کرتا ہے تو وہ گناہ گار ہے جس طرح زکوٰۃ نہ دینے والا گناہ گار ہوتا ہے، کیونکہ اس کی زیادتی کی وجہ سے لوگ زکوٰۃ دینے سے انکار کر سکتے ہیں۔
جیسا کہ موجودہ زمانہ میں لوگ ٹیکس دینے سے انکاری ہیں، وجہ یہ ہے کہ عامل ظلم کرتے ہیں۔ اگر صدقات وزکوٰۃ وصول کرنے والا زیادتی نہیں کرے گا تو ایسے لوگوں کے متعلق حدیث میں ہے سیدنا رافع بن خدیج رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرماتے تھے: ’’حق کے ساتھ صدقات جمع کرنے والا ایسے ہے جیسے مجاہد فی سبیل اللہ گھر لوٹ آئے۔ ‘‘ (سنن ابي داود، رقم: 2936۔ اسناده حسن)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 277 سے ماخوذ ہے۔