حدیث نمبر: 270
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا الْأَشْعَثُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: ((نُهِينَا عَنِ اتِّبَاعِ الْجَنَائِزِ، وَلَمْ يُعْزَمْ عَلَيْنَا)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہم (خواتین) کو جنازوں کی پیروی کرنے سے منع کیا گیا، لیکن یہ تاکیدی ممانعت نہیں تھی۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الجنائز / حدیث: 270
تخریج حدیث «السابق»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ہم (خواتین) کو جنازوں کی پیروی کرنے سے منع کیا گیا، لیکن یہ تاکیدی ممانعت نہیں تھی۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:270]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کو جنازے میں شریک ہونے سے نہیں روکا، البتہ اتباع جنائز سے منع کیا ہے۔ عورت کے لیے جنازے میں شریک ہونے کی رخصت ہے۔ جیسا کہ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ انہوں نے مسجد میں سیّدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھی۔ (مسلم، کتاب الجنائز، رقم: 973)
شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: خواتین کے لیے نماز جنازہ میں شرکت ثابت تو ہے، لیکن وہ جنازوں کی تدفین کے لیے نہیں چلیں گی۔ کیونکہ اس سے نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ (فتاویٰ اسلامیة: 2؍ 18)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 270 سے ماخوذ ہے۔