حدیث نمبر: 266
أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا عَاصِمٌ، نا حَفْصَةُ بِنْتُ سِيرِينَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: لَمَّا نَزَلَتْ: ﴿إِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ يُبَايِعْنَكَ عَلَى أَنْ لَا يُشْرِكْنَ بِاللَّهِ شَيْئًا وَلَا يَسْرِقْنَ وَلَا يَزْنِينَ﴾ [الممتحنة: 12] إِلَى قَوْلِهِ: ﴿وَلَا يَعْصِينَكَ فِي مَعْرُوفٍ﴾ [الممتحنة: 12] قَالَتْ: مِنْهَا النِّيَاحَةُ، قَالَتْ: فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِلَّا بَنِي فُلَانٍ فَإِنَّهُمْ كَانُوا أَسْعَدُونِي فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَا بُدَّ مِنْ إِسْعَادِهِمْ فَقَالَ: ((إِلَّا بَنِي فُلَانٍ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: جب یہ آیت نازل ہوئی کہ: ”جب مومن خواتین آپ کے پاس آئیں وہ اس پر بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی اور زنا نہیں کریں گی۔۔۔ اور نیکی کے کاموں میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔“ انہوں (سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: نوحہ خوانی بھی اسی میں شامل تھی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! سوائے بنو فلاں کے کہ انہوں نے دور جاہلیت میں میری مدد کی تھی، پس ان کی مدد کرنا میرے لیے ضروری ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سوائے بنو فلاں کے۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الجنائز / حدیث: 266
تخریج حدیث «انظر ما قبله»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، جب یہ آیت نازل ہوئی کہ: ’’جب مومن خواتین آپ کے پاس آئیں وہ اس پر بیعت کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گی، چوری نہیں کریں گی اور زنا نہیں کریں گی.... اور نیکی کے کاموں میں آپ کی نافرمانی نہیں کریں گی۔‘‘ انہوں (سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا) نے کہا: نوحہ خوانی بھی اسی میں شامل تھی، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! سوائے بنو فلاں کے کہ انہوں نے دور جاہلیت میں میری مدد کی تھی، پس ان کی مدد کرنا میرے لیے ضروری ہے، تو آپ نے فرمایا: ’’سوائے بنو فلاں کے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:266]
فوائد:
مذکورہ بالا حدیث میں ہے کہ جب عورتیں ہجرت کرکے آتیں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے بیعت لیتے تھے، فتح مکہ کے دن بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کی عورتوں سے بیعت لی۔ سیّدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ جب یہ آیت ﴿ ٰٓیاََیُّهَا النَّبِیُّ اِِذَا جَاءَكَ الْمُؤْمِنَاتُ یُبَایِعْنَكَ عَلٰی اَنْ لَا یُشْرِکْنَ بِاللّٰهِ شَیْئًا وَّلَا یَسْرِقْنَ وَلَا یَزْنِیْنَ وَلَا یَقْتُلْنَ اَوْلَادَهُنَّ وَلَا یَاْتِیْنَ بِبُهْتَانٍ یَفْتَرِیْنَهٗ بَیْنَ اَیْدِیْهِنَّ وَاَرْجُلِهِنَّ وَلَا یَعْصِیْنَكَ فِیْ مَعْرُوفٍ فَبَایِعْهُنَّ وَاسْتَغْفِرْ لَهُنَّ اللّٰهَ اِِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَحِیْمٌ ﴾ (الممتحنة:12) نازل ہوئی، اس کے بعد جو مومن عورت بیعت کرنے کے لیے آتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم (مذکورہ بالا آیت میں جن چیزوں کا تذکرہ ہے ان باتوں پر عہد لیتے) اگر وہ اقرار کرلیتی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس سے زبانی طور پر فرماتے کہ میں نے تمہاری بیعت قبول کرلی اور اللہ کی قسم! آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ نے کسی عورت کا ہاتھ بیعت لیتے وقت کبھی نہیں چھوا، صرف آپ ان سے زبانی بیعت لیتے تھے۔ (بخاري، کتاب التفسیر، رقم: 4891)
مذکورہ حدیث کے آخر میں ہے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا کو نوحہ کی رخصت دی۔ یا تو یہ نوحہ حرام ہونے سے پہلے کی بات ہے یا پھر اُمّ عطیہ رضی اللہ عنہا کے لیے خاص تھا۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ((وَلِلشَّارِعِ اَنْ یَّخُصَّ مِنَ الْعَمُوْمِ۔)) (فتح الباري: 8؍ 823) ’’شارع کو اختیار ہے کہ بعض حکم میں کسی کو خاص کردے۔‘‘
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 266 سے ماخوذ ہے۔