حدیث نمبر: 264
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، نا هِشَامٌ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ، وَقَالَ: الْحَقْوُ الَّذِي يُجْعَلُ فَوْقَ الثِّيَابِ، وَقَالَ: الْإِزَارُ تَحْتُ الثِّيَابِ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

ہشام نے اسی اسناد کے ساتھ مثل روایت کیا ہے۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الجنائز / حدیث: 264
تخریج حدیث «سنن ابوداود ، رقم : 3144 . سنن ترمذي ، رقم : 990 . مسند احمد : 407/6 . اسناده صحيح .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
ہشام نے اس اسناد کے ساتھ اسی مثل روایت کیا ہے۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:264]
فوائد:
معلوم ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم اطہر سے جو چیز مس ہوئی ہے اس سے برکت لینا جائز ہے۔ بشرطیکہ اس کی نسبت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یقینی ہو۔ صحیح بخاری میں ہے، سیّدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں: جب عبداللہ بن ابی فوت ہوگیا تو اس کا صاحبزادہ عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور درخواست کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی قمیص دے دیں تاکہ وہ اپنے باپ کو اس میں کفن دے سکے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قمیص عبداللہ بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے حوالے کردی۔ (بخاري، رقم: 1269)
اس سے مراد عبداللہ بن ابی رئیس المنافقین تھا۔ اس کا بیٹا صحابی رسول تھا اس کا نام بھی عبداللہ تھا۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 264 سے ماخوذ ہے۔