حدیث نمبر: 262
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: ((ضَفَرْنَا شَعَرَ بِنْتِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثَلَاثَةَ قُرُونٍ ثُمَّ جَمَعْنَاهَا جَمِيعَهَا فَأَلْقَيْنَاهَا خَلْفَهَا)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی کے بالوں کی تین لٹیں بنائیں، پھر ہم نے ان سب کو اکٹھا کیا اور اسے ان کے پیچھے ڈال دیا۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الجنائز / حدیث: 262
تخریج حدیث «السابق .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی کے بالوں کی تین لٹیں بنائیں، پھر ہم نے ان سب کو اکٹھا کیا اور اسے ان کے پیچھے ڈال دیا۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:262]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا میت کو غسل دیتے وقت دائیں طرف سے شروع کرنا چاہیے کیونکہ ہر اچھا کام دائیں جانب سے شروع کرنا مشروع ہے۔
یہ بھی معلوم ہوا اگر میت خاتون ہے تو اس کے بالوں میں تین مینڈھیاں بنا کے پیچھے ڈال دینا مسنون ہے۔ اور کنگھی بھی کرنی چاہیے۔ جیسا کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ہم نے کنگھی کرکے ان کے بالوں کو تین لٹوں میں تقسیم کردیا تھا۔ (بخاري، رقم: 1254)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 262 سے ماخوذ ہے۔