حدیث نمبر: 258
أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، عَنِ الْقَرْثَعِ قَالَ: لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى صَاحَتِ امْرَأَتُهُ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى لَهَا: أَمَا عَلِمْتِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: بَلَى، فَسَكَتَتْ، فَقِيلَ لَهَا بَعْدُ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: ((لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَلَقَ وَمَنْ حَلَقَ وَمَنْ خَرَقَ)).ترجمہ: محمد سرور گوہر
قرثع نے بیان کیا: جب ابوموسی رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو ان کی اہلیہ نے چیخ و پکار کی، ابوموسی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں؟ پس وہ خاموش ہو گئیں، بعد میں ان سے پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اظہار غم کے لیے) بین کرنے والے، بال منڈوانے والے اور کپڑے پھاڑنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
قرثع نے بیان کیا، جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو ان کی اہلیہ نے چیخ و پکار کی، ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں؟ پس وہ خاموش ہوگئیں، بعد میں ان سے پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اظہار غم کے لیے) بین کرنے والے، بال منڈوانے والے اور کپڑے پھاڑنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:258]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:258]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان کی کیفیت ثابت ہوتی ہے۔ سخت بیماری میں بھی وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے فرائض سے غافل نہیں رہتے تھے۔ معلوم ہوا مصیبت کے وقت نوحہ کرنا، کپڑے پھاڑنا، بال منڈوانا حرام ہیں۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگوں میں دو خصلتیں ہیں اور وہ دونوں کفر ہیں: نسب میں طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔‘‘ (مسلم،: رقم: 103)
ایک حدیث میں ہے کہ نوحہ کرنے والی جب اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرے تو روز قیامت اسے اس حال میں کھڑا کیا جائے گا کہ اس پر تار کول کا کرتہ اور خارش زدہ زرہ ہوگی۔ (مسلم، رقم: 934)
’’لیس منا‘‘ کے الفاظ اس گناہ کی سنگینی پر دلالت کرتے ہیں۔
مذکورہ حدیث سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے ایمان کی کیفیت ثابت ہوتی ہے۔ سخت بیماری میں بھی وہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر جیسے فرائض سے غافل نہیں رہتے تھے۔ معلوم ہوا مصیبت کے وقت نوحہ کرنا، کپڑے پھاڑنا، بال منڈوانا حرام ہیں۔ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگوں میں دو خصلتیں ہیں اور وہ دونوں کفر ہیں: نسب میں طعن کرنا اور میت پر نوحہ کرنا۔‘‘ (مسلم،: رقم: 103)
ایک حدیث میں ہے کہ نوحہ کرنے والی جب اپنی موت سے پہلے توبہ نہ کرے تو روز قیامت اسے اس حال میں کھڑا کیا جائے گا کہ اس پر تار کول کا کرتہ اور خارش زدہ زرہ ہوگی۔ (مسلم، رقم: 934)
’’لیس منا‘‘ کے الفاظ اس گناہ کی سنگینی پر دلالت کرتے ہیں۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 258 سے ماخوذ ہے۔