مسند اسحاق بن راهويه
كتاب الجنائز— جنازے کے احکام و مسائل
باب: جنازے میں شرکت اور تدفین تک ساتھ رہنے کی فضیلت
حدیث نمبر: 249
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ كَثِيرٍ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي عِيَاضٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((مَنْ تَبِعَ جِنَازَةً فَرَجَعَ قَبْلَ أَنْ يُدْفَنَ كَانَ لَهُ قِيرَاطٌ فَإِنْ مَضَى مَعَهَا إِلَى أَنْ يُدْفَنَ كَانَ لَهُ قِيرَاطَانِ أَصْغَرُهُمَا مِثْلُ أُحُدٍ)).ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی جنازے میں شرکت کرے، پھر وہ میت کی تدفین سے پہلے واپس آ جائے تو اس کے لیے ایک قیراط ہے، اور اگر وہ تدفین تک اس کے ساتھ رہے تو اس کے لیے دو قیراط ہیں، ان میں سے سب سے چھوٹا (قیراط) احد پہاڑ کے مثل ہے۔“