حدیث نمبر: 248
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ، نا يَزِيدُ بْنُ كَيْسَانَ، عَنْ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهِ سَوَاءً.ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سابق کے مثل روایت کیا ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے حدیث سابق کے مثل روایت کیا ہے۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:248]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:248]
فوائد:
امام محمد بن یزید بن ماجہ رحمہ اللہ نے اس روایت کو ’’بَابُ مَا جَاءَ فِیْ زِیَارَةِ قُبُوْرِ الْمُشْرِکِیْنَ‘‘.... ’’مشرکوں کی قبروں کی زیارت کرنا‘‘ کے تحت نقل فرمایا ہے۔ معلوم ہوا کہ غیر مسلموں کی قبروں کی زیارت کرنا بھی جائز ہے، کیونکہ قبروں کی زیارت کی وجہ سے انسان کو آخرت کی یاد آتی ہے۔
جیسا کہ حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا، چنانچہ اب ان کی زیارت کیا کرو۔ بلا شبہ ان کی زیارت میں (موت کی) یاددہانی ہے۔‘‘ (مسلم، رقم: 977)
مذکورہ بالا حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غیر مسلموں کے لیے دعا کرنا جائز نہیں ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَ لَوْ کَانُوْٓا اُولِیْ قُرْبٰی﴾ (التوبة: 113) ’’پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں۔‘‘
امام محمد بن یزید بن ماجہ رحمہ اللہ نے اس روایت کو ’’بَابُ مَا جَاءَ فِیْ زِیَارَةِ قُبُوْرِ الْمُشْرِکِیْنَ‘‘.... ’’مشرکوں کی قبروں کی زیارت کرنا‘‘ کے تحت نقل فرمایا ہے۔ معلوم ہوا کہ غیر مسلموں کی قبروں کی زیارت کرنا بھی جائز ہے، کیونکہ قبروں کی زیارت کی وجہ سے انسان کو آخرت کی یاد آتی ہے۔
جیسا کہ حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’میں نے تمہیں قبروں کی زیارت سے روکا تھا، چنانچہ اب ان کی زیارت کیا کرو۔ بلا شبہ ان کی زیارت میں (موت کی) یاددہانی ہے۔‘‘ (مسلم، رقم: 977)
مذکورہ بالا حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ غیر مسلموں کے لیے دعا کرنا جائز نہیں ہے۔ جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے: ﴿مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ یَّسْتَغْفِرُوْا لِلْمُشْرِکِیْنَ وَ لَوْ کَانُوْٓا اُولِیْ قُرْبٰی﴾ (التوبة: 113) ’’پیغمبر کو اور دوسرے مسلمانوں کو جائز نہیں کہ مشرکین کے لیے مغفرت کی دعا مانگیں اگرچہ وہ رشتہ دار ہی ہوں۔‘‘
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 248 سے ماخوذ ہے۔