حدیث نمبر: 246
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، أنا ابْنُ عَوْنٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ، كُنْتُ إِذَا مَشَيْتُ سَبَقَنِي فَأُهَرْوِلُ، فَإِذَا هَرْوَلْتُ سَبَقْتُهُ، فَقَالَ رَجُلٌ إِلَى جَنْبِي: ((إِنَّ الْأَرْضَ تُطْوَى لَهُ)) .ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: میں ایک جنازے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا جب میں چلتا تو آپ مجھ سے آگے نکل جاتے اور پھر میں تیز تیز چلنے لگا، جب میں تیز تیز چلنے لگا تو میں آپ سے آگے نکل گیا، میرے پہلو میں ایک آدمی تھا، اس نے کہا: زمین آپ کے لیے لپیٹی جا رہی ہے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا، میں ایک جنازے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا جب میں چلتا تو آپ مجھ سے آگے نکل جاتے اور پھر میں تیز تیز چلنے لگا، جب میں تیز تیز چلنے لگا تو میں آپ سے آگے نکل گیا، میرے پہلو میں ایک آدمی تھا، اس نے کہا: زمین آپ کے لیے لپیٹی جا رہی ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:246]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:246]
فوائد:
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (جنازہ لے کر) دوڑا کرتے تھے۔ (صحیح ابوداود: 2725)
معلوم ہوا کہ جنازے کو جلدی لے کر جانا چاہیے اور اس کے ساتھ تیز چلنا چاہیے۔
ایک دوسری حدیث میں ہے کہ سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ (جنازہ لے کر) دوڑا کرتے تھے۔ (صحیح ابوداود: 2725)
معلوم ہوا کہ جنازے کو جلدی لے کر جانا چاہیے اور اس کے ساتھ تیز چلنا چاہیے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 246 سے ماخوذ ہے۔