مسند اسحاق بن راهويه
كتاب التهجد و التطوع— تہجد اور نفل نماز کے احکام و مسائل
باب: نمازِ تہجد کے وقت کی دعائیں
حدیث نمبر: 241
اَخْبَرَنَا یَحْیَیَ بْنُ آدَمَ، نَا سُفْیَانَ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ، عَنْ سُلَیْمَانَ الْاَحْوَلِ، عَنْ طَاؤُوْسٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ یَدْعُوْ اِذَا تَهَجَّدَ مِنَ اللَّیْلِ، یَقُوْلُ: اَللّٰهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ، فَذَکَرَ مِثْلَهٗ سَوَاء .ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تہجد پڑھا کرتے تو یہ دعا کیا کرتے تھے: ”اے اللہ! ہر قسم کی تعریف تیرے ہی لیے ہے۔“ پس راوی نے حدیث سابق کے مثل ذکر کیا۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب تہجد پڑھا کرتے تو یہ دعا کیا کرتے تھے: ’’اے اللہ! ہر قسم کی تعریف تیرے ہی لیے ہے۔‘‘ پس راوی نے حدیث سابق کے مثل ذکر کیا۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:241]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:241]
فوائد:
مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا کہ نماز تہجد کے لیے جب اُٹھیں تو مذکورہ بالا دعا پڑھنی چاہیے۔ یہ بڑی جامع دعا ہے جو ایمان کے اصول اور دین کی اساس اور اسلام کے حقائق پر مشتمل ہے اس میں اللہ ذوالجلال کی حمد وثنا، عبودیت کے اقرار سے توسل کیا گیا ہے۔ مزید برآں اس حدیث میں اللہ رب العزت کے اسماء حسنیٰ ’’نُوْرُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ‘‘، ’’قَیِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ‘‘، ’’رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ‘‘، ’’اَلْحَقٌّ‘‘ اور ’’اِٰلٰهَ‘‘ کا بیان ہے۔
مذکورہ احادیث سے معلوم ہوا کہ نماز تہجد کے لیے جب اُٹھیں تو مذکورہ بالا دعا پڑھنی چاہیے۔ یہ بڑی جامع دعا ہے جو ایمان کے اصول اور دین کی اساس اور اسلام کے حقائق پر مشتمل ہے اس میں اللہ ذوالجلال کی حمد وثنا، عبودیت کے اقرار سے توسل کیا گیا ہے۔ مزید برآں اس حدیث میں اللہ رب العزت کے اسماء حسنیٰ ’’نُوْرُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ‘‘، ’’قَیِّمُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ‘‘، ’’رَبُّ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضِ‘‘، ’’اَلْحَقٌّ‘‘ اور ’’اِٰلٰهَ‘‘ کا بیان ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 241 سے ماخوذ ہے۔