حدیث نمبر: 238
أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، نا يَزِيدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّسْتُرِيُّ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقُومُ فِيهِمَا قَدْرَ مَا يَقْرَأُ فَاتِحَةَ الْكِتَابِ يَعْنِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں یعنی فجر سے پہلے کی دو رکعتوں میں سورۃ الفاتحہ کی قرأت کے برابر قیام فرمایا کرتے تھے۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب التهجد و التطوع / حدیث: 238
تخریج حدیث «بخاري ، كتاب الجمعة ، باب ماجاء فى التطوع مثني مثني ، رقم : 1171 . مسلم ، رقم : 764 . مسند احمد : 217/6»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں یعنی فجر سے پہلے کی دو رکعتوں میں سورۂ الفاتحہ کی قرائت کے برابر قیام فرمایا کرتے تھے۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:238]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا کہ فجر کی دو سنتیں مختصر پڑھنا مسنون ہے۔ مختصر پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ قیام وقراء ت اور رکوع وسجود میں اختصار کریں۔ امام مالک رحمہ اللہ نے مذکورہ بالا حدیث کو پیش نظر رکھتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ فجر کی سنتوں میں صرف فاتحہ ہی پڑھنی چاہیے۔ لیکن یہ ان کا موقف درست نہیں کیونکہ دوسری صحیح احادیث سے واضح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فاتحہ کے بعد قراء ت فرمایا کرتے تھے۔ جیسا کہ سیّدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر کی سنتوں (میں سے پہلی) میں ﴿قُلْ یَاَیُّهَا الْکَافِرُوْنَ﴾ اور (دوسری میں) ﴿قُلْ هُوَ اللّٰهُ اَحَدٌ﴾ کی قرائت فرمائی۔ (مسلم، کتاب صلاة المسافرین، رقم: 726)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 238 سے ماخوذ ہے۔