حدیث نمبر: 219
اَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ، اَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ، اَخْبَرَنِی الْحَسَنُ بْنُ مُسْلِمٍ عَنْ طَاؤُوْسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ حَقٌّ عَلٰی کُلِّ مُسْلِمٍ بَلَغَ الْحَلْمَ، اَنْ یَّتَطَهَّرَ لِلّٰهِ فِی کُلِّ سَبْعَةِ اَیَّامٍ یَوْمًا، وَاِنْ لَمْ یَکُنْ جُنُبًا، یَغْسِلُ رَأْسَهٗ وَجِلْدَهٗ یَوْمُ الْجُمُعَةِ.ترجمہ: محمد سرور گوہر
طاؤس رحمہ اللہ نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر بالغ شخص پر حق ہے کہ وہ ہر سات دن میں سے ایک دن اللہ کی خاطر خوب صفائی کرے، اگرچہ وہ جنبی نہ ہو، وہ جمعہ کے دن اپنا سر اور اپنا جسم دھوئے گا۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
طاؤس رحمہ اللہ نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ہربالغ شخص پر حق ہے کہ وہ ہر سات دن میں سے ایک دن اللہ کی خاطر خوب صفائی کرے، اگرچہ وہ جنبی نہ ہو، وہ جمعہ کے دن اپنا سر اور اپنا جسم دھوئے گا۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:219]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:219]
فوائد:
جمعہ کے دن نماز جمعہ کے لیے غسل کرنا مسنون ہے۔ مذکورہ بالا حدیث میں ہے ہر بالغ مسلمان پر سات دنوں میں ایک دن غسل کرنا حق ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ: ((غُسْلُ یَوْمُ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلٰی کُلِّ مُحْتَلِمٍ۔)) (بخاري، رقم: 858) .... ’’ہر بالغ شخص پر جمعہ کے دن غسل کرنا واجب ہے۔‘‘
روایات سے ثابت ہے کہ مشکل حالات کی وجہ سے صحابہ کرام موسم گرما میں اونی لباس پہنتے تھے جس کی وجہ سے پسینہ آتا اور مسجد میں ان کے پسینے کی بدبو پھیل جاتی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ((لَوْ اَنَّکُمْ تَطَهَّرْتُمْ لِیَوْمِکُمْ هٰذَا۔)) (بخاري، رقم: 903۔ مسلم، رقم: 847) ’’اگر تم اس دن غسل کرلیا کرو (تو بہتر ہے۔)‘‘
ان روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے فقہاء میں اختلاف ہے کیا غسل جمعہ واجب ہے یا کہ نہیں؟ علامہ ابن حجر اور ابن حزم ; کا موقف ہے کہ غسل جمعہ فرض ہے۔ (فتح الباري: 3؍ 13۔ المحلی بالآثار: 1؍ 255)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا موقف ہے: غسل جمعہ مستحب ہے، البتہ جس میں پسینے کی وجہ سے بدبو ہو اور نمازی اور فرشتے اس سے تکلیف محسوس کرسکتے ہوں، اس پر واجب ہے۔ (التعلیق علی سبل السلام للشیخ عبدالله بسام: 1؍ 186)
جمعہ کے دن نماز جمعہ کے لیے غسل کرنا مسنون ہے۔ مذکورہ بالا حدیث میں ہے ہر بالغ مسلمان پر سات دنوں میں ایک دن غسل کرنا حق ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ: ((غُسْلُ یَوْمُ الْجُمُعَةِ وَاجِبٌ عَلٰی کُلِّ مُحْتَلِمٍ۔)) (بخاري، رقم: 858) .... ’’ہر بالغ شخص پر جمعہ کے دن غسل کرنا واجب ہے۔‘‘
روایات سے ثابت ہے کہ مشکل حالات کی وجہ سے صحابہ کرام موسم گرما میں اونی لباس پہنتے تھے جس کی وجہ سے پسینہ آتا اور مسجد میں ان کے پسینے کی بدبو پھیل جاتی تھی۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں فرمایا: ((لَوْ اَنَّکُمْ تَطَهَّرْتُمْ لِیَوْمِکُمْ هٰذَا۔)) (بخاري، رقم: 903۔ مسلم، رقم: 847) ’’اگر تم اس دن غسل کرلیا کرو (تو بہتر ہے۔)‘‘
ان روایات کو مدنظر رکھتے ہوئے فقہاء میں اختلاف ہے کیا غسل جمعہ واجب ہے یا کہ نہیں؟ علامہ ابن حجر اور ابن حزم ; کا موقف ہے کہ غسل جمعہ فرض ہے۔ (فتح الباري: 3؍ 13۔ المحلی بالآثار: 1؍ 255)
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا موقف ہے: غسل جمعہ مستحب ہے، البتہ جس میں پسینے کی وجہ سے بدبو ہو اور نمازی اور فرشتے اس سے تکلیف محسوس کرسکتے ہوں، اس پر واجب ہے۔ (التعلیق علی سبل السلام للشیخ عبدالله بسام: 1؍ 186)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 219 سے ماخوذ ہے۔