حدیث نمبر: 218
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ يُحَدِّثُ , عَنْ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَتْ: ((لَقَدْ رَأَيْتُنَا وَإِنَّ تَنُّورَنَا وَتَنُّورَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِوَاحِدٌ وَمَا تَعَلَّمْتُ ق وَالْقُرْآنِ إِلَّا مِنْ فِيِّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَخْطُبُ بِهَا يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

حارثہ بن نعمان کی بیٹی نے فرمایا: میں نے دیکھا ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تندور ایک ہی تھا، میں نے سورہ ق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک سے (سن کر) سیکھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم جمعہ کے دن منبر پر اسے پڑھتے تھے۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الجمعة / حدیث: 218
تخریج حدیث «مسلم ، كتاب الجمعة ، باب تخفيف الصلاة والخطبة ، رقم : 872 . سنن ابوداود ، رقم : 1100 . سنن نسائي ، رقم : 1411 .»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
حارثہ بن نعمان کی بیٹی نے فرمایا: میں نے دیکھا ہمارا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تندور ایک ہی تھا، میں نے سورۂ قٓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے منہ مبارک سے (سن کر) سیکھی، آپ جمعہ کے دن منبر پر اسے پڑھتے تھے۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:218]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا جمعہ کے خطبہ اور وعظ میں سورۂ قٓ کی تلاوت مسنون ہے۔ صحیح مسلم میں ہے نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم عید کی نماز میں سورۂ ’’قٓ‘‘ اور ’’اقتربت الساعۃ‘‘ پڑھا کرتے تھے۔ (مسلم، کتاب صلاة العیدین، باب ما یقرأ به فی صلاة العیدین)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں: عیدین اور جمعہ میں پڑھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ بڑے مجمعوں میں یہ سورت پڑھا کرتے تھے۔ کیونکہ اس میں ابتدائے خلق، بعث ونشور، معاد، قیام، حساب، جنت، دوزخ، ثواب وعتاب اور ترغیب وترہیب کا بیان ہے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 218 سے ماخوذ ہے۔