مسند اسحاق بن راهويه
كتاب الجمعة— جمعہ کے احکام و مسائل
باب: تین جمعہ چھوڑنے پر دل پر مہر لگ جانے کا بیان
حدیث نمبر: 217
أَخْبَرَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ مَنْ، سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ ثَلَاثًا مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ يَكُونَ لَهُ , طُبِعَ عَلَى قَلْبِهِ)).ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص کسی (شرعی) عذر کے بغیر تین جمعے چھوڑ دیتا ہے تو اس کے دل پر مہر لگ جاتی ہے۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو شخص کسی (شرعی) عذر کے بغیر تین جمعے چھوڑ دیتا ہے تو اس کے دل پر مہر لگ جاتی ہے۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:217]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:217]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے نماز جمعہ کی اہمیت ثابت ہوتی ہے کہ اس کے چھوڑنے کی وجہ سے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے۔ یہ بڑی بدنصیبی ہے نیکی اور خیر کی توفیق سے انسان محروم ہو جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ ذوالجلال نے کافروں کے متعلق فرمایا: ﴿خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰی سَمْعِهِمْ﴾ (البقرۃ: 7).... ’’اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے۔‘‘
صحیح مسلم کی ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگ نماز جمعہ چھوڑنے سے ضرور باز آجائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دیں گے، پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘
اللہ ذوالجلال نے مومنوں کو اس بات کا حکم دیا ہے، فرمایا: ﴿یٰٓاََیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِِلٰی ذِکْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَیْعَ﴾ (الجمعة: 9) .... ’’اے وہ لوگ جو ایمان لائے ہو! جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔‘‘
مذکورہ حدیث سے نماز جمعہ کی اہمیت ثابت ہوتی ہے کہ اس کے چھوڑنے کی وجہ سے دلوں پر مہر لگ جاتی ہے۔ یہ بڑی بدنصیبی ہے نیکی اور خیر کی توفیق سے انسان محروم ہو جاتا ہے۔ قرآن مجید میں اللہ ذوالجلال نے کافروں کے متعلق فرمایا: ﴿خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ وَ عَلٰی سَمْعِهِمْ﴾ (البقرۃ: 7).... ’’اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے۔‘‘
صحیح مسلم کی ایک دوسری حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’لوگ نماز جمعہ چھوڑنے سے ضرور باز آجائیں ورنہ اللہ تعالیٰ ان کے دلوں پر مہر لگا دیں گے، پھر وہ غافلوں میں سے ہو جائیں گے۔‘‘
اللہ ذوالجلال نے مومنوں کو اس بات کا حکم دیا ہے، فرمایا: ﴿یٰٓاََیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اِِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِِلٰی ذِکْرِ اللّٰهِ وَذَرُوا الْبَیْعَ﴾ (الجمعة: 9) .... ’’اے وہ لوگ جو ایمان لائے ہو! جمعہ کے دن نماز کے لیے اذان دی جائے تو تم اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ پڑو اور خرید و فروخت چھوڑ دو۔‘‘
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 217 سے ماخوذ ہے۔