حدیث نمبر: 18
حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ لَيْثِ بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَحْسَبُهُ رَفَعَهُ قَالَ: ((مَنْهُومَانِ لَا يَقْضِي اِحَدَهَمَا هَمَّتُهُ ، مَنْهُومٌ فِي طَلَبِ الْعِلْمِ لَا يَقْضِي نَهْمَتُهُ، وَمَنْهُومٌ فِي طَلَبِ الدُّنْيَا لَا تَنْقَضِي نَهْمَتُهُ)).ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما مرفوع بیان کرتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو حریص ہیں، ان دونوں میں سے کسی ایک کی حرص ختم نہیں ہوتی: طلب علم میں حرص رکھنے والا، اس کی حرص ختم نہیں ہوتی، طلب مال میں حرص رکھنے والا اس کی حرص بھی ختم نہیں ہوتی۔“
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
´دو حریص کون؟`
”. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو حریص ہیں، ان دونوں میں سے کسی ایک کی حرص ختم نہیں ہوتی: طلب علم میں حرص رکھنے والا، اس کی حرص ختم نہیں ہوتی، طلب مال میں حرص رکھنے والا اس کی حرص بھی ختم نہیں ہوتی۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب العلم/حدیث: 18]
”. . . آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو حریص ہیں، ان دونوں میں سے کسی ایک کی حرص ختم نہیں ہوتی: طلب علم میں حرص رکھنے والا، اس کی حرص ختم نہیں ہوتی، طلب مال میں حرص رکھنے والا اس کی حرص بھی ختم نہیں ہوتی۔“ [مسند اسحاق بن راهويه/كتاب العلم/حدیث: 18]
فوائد: مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا طالب علم اور طالب دنیا ان دونوں کی حرص ختم نہیں ہوتی، لیکن ان دونوں میں بہت زیادہ فرق ہے۔
کیونکہ علم کا طالب اللہ کی رضامندی کے لیے آگے بڑھتا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو قسم کے لوگ کبھی سیر نہیں ہوتے: ایک صاحب علم اور دوسرا صاحب دنیا اور نہ ہی وہ درجہ میں برابر ہو سکتے ہیں، کیونکہ صاحب علم رب رحمٰن کو راضی کرنے میں بہت آگے ہوتا ہے اور صاحب دنیا سرکشی میں بہت آگے نکلا ہوتا ہے۔ پھر انہوں نے قرآن مجید کی درج ذیل آیات تلاوت کیں: «كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَىٰ ٭ أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى» [العلق: 6،7]
”ہرگز نہیں، بےشک آدمی سرکش بن جاتا ہے جب دیکھتا ہے کہ وہ دولت مند ہو گیا۔“
راوی کہتے ہیں اور مزید یہ آیت تلاوت کی: «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» [فاطر:28]
’’اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔ [سنن دارمي، رقم: 332]
علم کے اضافہ کے لیے دعا کا خود اللہ ذوالجلال نے حکم دیا ہے: «وَقُل رَبِّ زِدني عِلمًا» [طه: 114]
کیونکہ علم کا طالب اللہ کی رضامندی کے لیے آگے بڑھتا ہے۔
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو قسم کے لوگ کبھی سیر نہیں ہوتے: ایک صاحب علم اور دوسرا صاحب دنیا اور نہ ہی وہ درجہ میں برابر ہو سکتے ہیں، کیونکہ صاحب علم رب رحمٰن کو راضی کرنے میں بہت آگے ہوتا ہے اور صاحب دنیا سرکشی میں بہت آگے نکلا ہوتا ہے۔ پھر انہوں نے قرآن مجید کی درج ذیل آیات تلاوت کیں: «كَلَّا إِنَّ الْإِنْسَانَ لَيَطْغَىٰ ٭ أَنْ رَآهُ اسْتَغْنَى» [العلق: 6،7]
”ہرگز نہیں، بےشک آدمی سرکش بن جاتا ہے جب دیکھتا ہے کہ وہ دولت مند ہو گیا۔“
راوی کہتے ہیں اور مزید یہ آیت تلاوت کی: «إِنَّمَا يَخْشَى اللَّهَ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ» [فاطر:28]
’’اللہ سے اس کے وہی بندے ڈرتے ہیں جو علم رکھتے ہیں۔ [سنن دارمي، رقم: 332]
علم کے اضافہ کے لیے دعا کا خود اللہ ذوالجلال نے حکم دیا ہے: «وَقُل رَبِّ زِدني عِلمًا» [طه: 114]
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 18 سے ماخوذ ہے۔