حدیث نمبر: 114
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنِ الْمُغِيرَةِ، عَنْ زِيَادِ بْنِ كُلَيْبٍ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ قَالَ: ((كَانُوا يَسْتَحِبُّونَ السِّوَاكَ بَعْدَ الْوِتْرِ قَبْلَ الرَّكْعَتَيْنِ)) .ترجمہ: محمد سرور گوہر
ابراہیم نخعی رحمہ الله نے بیان کیا، وہ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد) دو رکعتوں سے پہلے وتر کے بعد مسواک کرنا پسند کرتے تھے۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے بیان کیا، وہ (عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے شاگرد) دو رکعتوں سے پہلے وتر کے بعد مسواک کرنا پسند کرتے تھے۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:114]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:114]
فوائد:
معلوم ہوا زیادہ سے زیادہ مسواک کرنی چاہیے۔ بالخصوص عبادات کے وقت تاکہ منہ کی صفائی ہو اور فرشتوں کو اذیت نہ پہنچے۔
معلوم ہوا زیادہ سے زیادہ مسواک کرنی چاہیے۔ بالخصوص عبادات کے وقت تاکہ منہ کی صفائی ہو اور فرشتوں کو اذیت نہ پہنچے۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 114 سے ماخوذ ہے۔