حدیث نمبر: 112
أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ، نا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ خَرَّبُوذٍ قَالَ: سَمِعْتُ أُمَّ صُبَيَّةَ الْجُهَنِيَّةَ تَقُولُ: ((رُبَّمَا اخْتَلَفَتْ يَدِي وَيَدُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْوُضُوءِ مِنَ الْإِنَاءِ الْوَاحِدِ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

نعمان بن خربوذ نے بیان کیا، میں نے ام صبیہ جہنیہ رضی اللہ عنہا کو بیان کرتے ہوئے سنا: بسا اوقات ایک ہی برتن میں سے وضو کرتے ہوئے میرا ہاتھ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ایک دوسرے سے ٹکراتا۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الطهارة / حدیث: 112
تخریج حدیث «بخاري ، كتاب الوضوء ، باب وضو الرجل مع امراته الخ ، رقم : 193 . سنن ابوداود ، كتاب الطهارة ، باب الوضو بفضل وضو المراة ، رقم : 78 . مسند احمد : 366/6»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
نعمان بن خربوذ نے بیان کیا، میں نے ام صبیہ جہنیہ رضی اللہ عنہا کو بیان کرتے ہوئے سنا: بسا اوقات ایک ہی برتن میں سے وضو کرتے ہوئے میرا ہاتھ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ ایک دوسرے سے ٹکراتا۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:112]
فوائد:
ممکن ہے مذکورہ بالا واقعہ پردہ کا حکم نازل ہونے سے پہلے کا ہو یا ممکن ہے ان کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی ایسا رشتہ ہو جس کی وجہ سے پردہ واجب نہ ہو۔ واللہ اعلم بالصواب۔ ام صبیۃ کا اصل نام خولہ بنت قیس تھا۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 112 سے ماخوذ ہے۔