مسند اسحاق بن راهويه
كتاب الطهارة— طہارت اور پاکیزگی کے احکام و مسائل
باب: طہر کے بعد مٹیالے یا زرد رنگ کا پانی آنا
حدیث نمبر: 111
أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، نا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنْ حَفْصَةَ، عَنْ أُمِّ عَطِيَّةَ قَالَتْ: " كُنَّا لَا نَرَى التَّرِيَّةَ شَيْئًا: الْكُدْرَةَ وَالصُّفْرَةَ ".ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: ہم (حیض سے پاک ہونے کے بعد) سفید، مٹیالے اور زرد رنگت والے پانی کو کچھ نہیں سمجھتی تھی۔
تشریح، فوائد و مسائل
✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: ہم (حیض سے پاک ہونے کے بعد) سفید، مٹیالے اور زردرنگت والے پانی کو کچھ نہیں سمجھتی تھی۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:111]
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:111]
فوائد:
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا انقطاع حیض کے بعد اگر عورت کی شرمگاہ سے کوئی مادہ خارج ہو تو اسے حیض شمار نہیں کیا جائے گا خواہ وہ گدلے یا زرد رنگ کا ہو یا کسی اور رنگ کا۔ سیّد سابق رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’ایامِ حیض میں پیلے یا مٹیالے رنگ کا خون حیض سمجھا جائے گا لیکن دیگر ایام میں اسے حیض نہیں سمجھا جائے گا۔ ‘‘(فقہ السنہ)
جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے ثابت ہوتا ہے علامہ شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مذکورہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ طہر کے بعد اگر مٹیالے یا زرد رنگ کا پانی آئے تو وہ حیض نہیں ہے لیکن ایام حیض میں اس کا آنا حیض ہی ہوگا۔ (نیل الاوطار: 1؍ 402)
مذکورہ حدیث سے معلوم ہوا انقطاع حیض کے بعد اگر عورت کی شرمگاہ سے کوئی مادہ خارج ہو تو اسے حیض شمار نہیں کیا جائے گا خواہ وہ گدلے یا زرد رنگ کا ہو یا کسی اور رنگ کا۔ سیّد سابق رحمہ اللہ لکھتے ہیں: ’’ایامِ حیض میں پیلے یا مٹیالے رنگ کا خون حیض سمجھا جائے گا لیکن دیگر ایام میں اسے حیض نہیں سمجھا جائے گا۔ ‘‘(فقہ السنہ)
جیسا کہ مذکورہ بالا حدیث سے ثابت ہوتا ہے علامہ شوکانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: مذکورہ حدیث دلالت کرتی ہے کہ طہر کے بعد اگر مٹیالے یا زرد رنگ کا پانی آئے تو وہ حیض نہیں ہے لیکن ایام حیض میں اس کا آنا حیض ہی ہوگا۔ (نیل الاوطار: 1؍ 402)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 111 سے ماخوذ ہے۔