حدیث نمبر: 110
أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي حُمَيْدٍ، عَنْ هِنْدَ بِنْتِ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، عَنْ عَمَّتِهَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ((أَكَلَ مِنْ كَتِفِ شَاةٍ ثُمَّ صَلَّى وَلَمْ يَتَوَضَّأْ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

سیدنا ابن ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اپنی پھوپھی سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کی دستی کا گوشت کھایا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الطهارة / حدیث: 110
تخریج حدیث «بخاري ، كتاب الوضوء ، باب من لم يتوضاء من لحم والسويق ، رقم : 208 . مسلم ، كتاب الحيض ، باب نسخ الوضو مما مست النار ، رقم : 355 . سنن ابوداود ، رقم : 187 . سنن ترمذي ، رقم : 1836»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
سیدنا ابن ابی سعید خدری رضی اللہ عنہ نے اپنی پھوپھی سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بکری کی دستی کا گوشت کھایا، پھر نماز پڑھی اور وضو نہ کیا۔
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:110]
فوائد:
(1) معلوم ہوا بکری کا گوشت کھانا مسنون ہے۔
(2).... آگ پر پکی ہوئی چیز کھانے کے بعد دوبارہ وضو کی ضرورت نہیں۔
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 110 سے ماخوذ ہے۔