حدیث نمبر: 109
أَخْبَرَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ، نا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي سُفْيَانَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْأَخْنَسِ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((تَوَضَّئُوا مِمَّا مَسَّتِ النَّارُ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترم ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس چیز کو آگ نے چھوا ہو (آگ پر پکی ہو) اس (کے کھانے پینے) سے وضو کرو۔“

حوالہ حدیث مسند اسحاق بن راهويه / كتاب الطهارة / حدیث: 109
تخریج حدیث «مسلم ، كتاب الحيض ، باب الوضوء مما مست النار ، رقم : 352 . سنن ابوداود ، رقم : 194 . سنن ترمذي ، رقم : 79 . سنن ابن ماجه ، رقم : 485»

تشریح، فوائد و مسائل

✍️ حافظ عبدالشکور ترمذی
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس چیز کو آگ نے چھوا ہو (آگ پر پکی ہو) اس (کے کھانے پینے) سے وضو کرو۔‘‘
[مسند اسحاق بن راهويه/حدیث:109]
فوائد:
ایک دوسری حدیث میں ہے سیّدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی معظم صلی اللہ علیہ وسلم کو بکری کے شانے کا گوشت کاٹ کر کھاتے ہوئے دیکھا، پھر نماز کے لیے بلایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوگئے اور چھری کو پھینک دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھی لیکن وضو نہیں کیا۔ (بخاري، کتاب الوضوء، رقم: 208۔ اسی طرح دیکھئے حدیث نمبر: 652)
بظاہر دونوں احادیث میں تعارض نظر آتا ہے۔ لیکن پہلی روایت منسوخ اور دوسری ناسخ ہے۔ جیسا کہ سیّدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: آگ سے پکی ہوئی چیز کھانے سے وضو ترک کر دینا ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دونوں معاملات میں سے آخری تھا۔ (سنن ابي داود، کتاب الطهارة، رقم: 192۔ سنن نسائي، رقم: 185۔ صحیح ابي داود، رقم: 177)
درج بالا اقتباس مسند اسحاق بن راھویہ، حدیث/صفحہ نمبر: 109 سے ماخوذ ہے۔