حدیث نمبر: 935
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ حُصَيْنِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنِ ابْنٍ لِحُذَيْفَةَ، عَنْ عَمَّةٍ لَهُ قَالَتْ: مَرِضَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُهُ فِي نِسْوَةٍ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ وَقَدْ عَلَّقَ سِقَاءً وَهُوَ يَقْطُرُ عَلَى فُؤَادِهِ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ آذَاكَ هَذَا، فَادْعُ اللَّهَ أَنْ يَكْشِفَهُ عَنْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ کے بیٹے نے اپنی پھوپھی (فاطمہ بنت یمان رضی اللہ عنہا) سے روایت کیا، انہوں نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیمار ہوئے، تو میں چند مہاجر خواتین کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مشکیزہ لٹکا رکھا تھا، وہ آپ کے دل پر قطرہ قطرہ گرا رہا تھا، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! اس نے آپ کو ایذا پہنچائی ہے، اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ آپ کی اس تکلیف کو دور کر دے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سب سے زیادہ انبیاء علیہم السلام اجمعین کی آزمائش ہوتی ہے، اس کے بعد ان کے بعد والے حضرات کی، اور پھر ان کی جو ان کے بعد آتے ہیں۔“
حدیث نمبر: 936
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ، نا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ حُذَيْفَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ فَاطِمَةَ قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعُودُهُ فِي نِسْوَةٍ وَقَدْ عَلَّقَ سِقَاءً، فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا: میں کچھ خواتین کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کرنے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزہ لٹکا رکھا تھا، پس راوی نے حدیث سابق کے مانند ذکر کیا۔
حدیث نمبر: 937
أَخْبَرَنَا النَّضْرُ، نا شُعْبَةُ، عَنْ حُصَيْنٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ، عَنْ عَمَّتِهِ، قَالَتْ: أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَ نِسْوَةٍ، فَإِذَا هُوَ قَدْ عَلَّقَ سِقَاءً يَقْطُرُ عَلَيْهِ مِنْ مَائِهِ مِنْ شِدَّةِ مَا يَجِدُهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَوْ دَعَوْتَ اللَّهَ أَنْ يُفَرِّجَ عَنْكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((إِنَّ أَشَدَّ النَّاسِ بَلَاءً الْأَنْبِيَاءُ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ، ثُمَّ الَّذِينَ يَلُونَهُمْ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدہ فاطمہ (بنت یمان رضی اللہ عنہا) نے بیان کیا: میں چند خواتین کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، تو دیکھا کہ آپ نے مشکیزہ لٹکا رکھا ہے اور آپ جو تکلیف محسوس کر رہے ہیں اس وجہ سے اس کا پانی قطرہ قطرہ کر کے آپ پر گرایا جا رہا ہے، میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ اللہ سے دعا فرمائیں کہ وہ آپ کی تکلیف دور فرما دے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انبیاء علیہم السلام اجمعین پر سب سے سخت آزمائش آتی ہے، پھر جو ان کے بعد، پھر جو ان کے بعد اور پھر جو ان کے بعد۔“