حدیث نمبر: 920
أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا حَمْزَةُ الزَّيَّاتُ، عَنْ أَبِي مُجَاهِدٍ سَعْدٍ الطَّائِيِّ، عَنْ أَبِي الْمُدَلَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا إِذَا كُنَّا عِنْدَكَ كَأَنَّ قُلُوبَنَا فِي الْآخِرَةِ، وَإِذَا خَرَجْنَا مِنْ عِنْدِكَ فَلَقِينَا الْأَهْلَ وَالْوَلَدَ ذَهَبَ ذَلِكَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَوْ كُنْتُمْ إِذَا خَرَجْتُمْ مِنْ عِنْدِي تَكُونُونَ كَمَا تَكُونُونَ عِنْدِي لَصَافَحَتْكُمُ الْمَلَائِكَةُ بِأَكُفِّهَا وَلَزَارَتْكُمْ فِي بُيُوتِكُمْ، وَلَوْ لَمْ تُذْنِبُوا لَجَاءَ اللَّهُ بِقَوْمٍ يُذْنِبُونَ فَيَغْفِرَ لَهُمْ "، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي مِمَّا خُلِقَ الْخَلْقُ، فَقَالَ: ((مِنَ الْمَاءِ)) ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَنِ الْجَنَّةِ مَا بِنَاؤُهَا، فَذَكَرَ مِثْلَ حَدِيثِ عِيسَى إِلَى آخِرِهِ سَوَاءً، وَقَالَ: ((الْمِسْكُ الْإِذْخِرُ وَحَصْبَاؤُهَا اللُّؤْلُؤُ وَالْيَاقُوتُ)) ، وَقَالَ: ((وَالْإِمَامُ الْمُقْسِطُ لَا تُرَدُّ دَعْوَتُهُ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: ہم نے عرض کیا: اللہ کے رسول! ہمارا کیا معاملہ ہے کہ جب ہم آپ کے پاس ہوتے ہیں تو گویا ہمارے دل آخرت میں (لگے) ہوتے ہیں، جب ہم آپ کے پاس سے چلے جاتے ہیں اور اپنے اہل و عیال سے ملاقات کرتے ہیں تو ہماری یہ کیفیت جاتی رہتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تمہاری میرے پاس سے جانے کے بعد بھی وہی کیفیت رہے جو کہ میرے پاس ہوتے ہوئے ہوتی ہے تو پھر فرشتے اپنے ہاتھوں کے ساتھ مصافحہ کریں، تمہارے گھروں میں تمہاری زیارت کریں، اور اگر تم گناہ نہ کرو تو اللہ ایسے لوگ لے آئے گا جو کہ گناہ کریں گے تو انہیں بخش دیا جائے گا۔“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے بتائیں کہ مخلوق کی تخلیق کس چیز سے ہوئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پانی سے“ میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے جنت اور اس کی تعمیر کے متعلق بتائیں؟ پس راوی نے روایت عیسیٰ کے مثل ذکر کی اور آخر تک اسی طرح بیان کیا اور فرمایا: ”«مسک» (کستوری) «أذخر» ہے اور اس کے سنگریزے، ہیرے جواہرات اور یاقوت ہیں۔“ اور فرمایا: ”مصنف بادشاہ کی دعا رد نہیں کی جاتی۔“