حدیث نمبر: 748
اَخْبَرَنَا سُفْیَانُ، عَنْ سُلَیْمَانَ بْنِ سُحَیْمٍ، عَنْ اِبْرَاهِیْمَ بْنِ عَبْدِاللّٰهِ بْنِ مَعْبَدٍ، عَنْ اَبِیْهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَشَفَ رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ السَتَّارَةَ وَالنَّاسُ صُفُوْفٌ خَلْفَ اَبِیْ بَکْرٍ، فَقَالَ: اِنَّهٗ لَمْ یَبْقِ مِنْ مُبَشِّرَاتِ النُّبُوَّةِ اِلَّا الرُّؤْیَا الصَّالِحَۃِ، یَرَاہَا الْمُسْلِمُ اَوْ تُرٰی لَهٗ ثُمَّ قَالَ: اَ لٓا اِنِّیْ نُهِیْتُ اَنْ اَقْرَأَ رَاکِعًا وَسَاجِدًا، اَمَّا الرُّکُوْعُ فَعَظِّمُوْا فِیْهِ الرَّبَّ، وَاَمَّا السُّجُوْدُ فَاجْتَهِدُوْا فِی الدُّعَاءِ، فَقَمِنَ اَنْ یُّسْتَجَابَ لَکُمْ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پردہ ہٹایا، جبکہ لوگ (صحابہ کرام رضی اللہ عنہم) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے صفیں بنائے ہوئے تھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مبشرات نبوت میں سے صرف نیک/اچھے خواب ہی باقی رہ گئے ہیں، جو مسلمان شخص دیکھتا ہے یا وہ اسے دکھایا جاتا ہے۔“ پھر فرمایا: ”سنو! مجھے منع کیا گیا ہے کہ میں رکوع یا سجدے کی حالت میں قرآن پڑھوں، رہا رکوع تو اس میں رب تعالیٰ کی عظمت بیان کرو، رہے سجود تو ان میں خوب دعا کرو، لائق تر ہے کہ تمہاری دعائیں قبول کی جائیں۔“