حدیث نمبر: 509
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ الْقَعْقَاعِ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ جَرِيرٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((تَضَمَّنَ اللَّهُ لِمَنْ خَرَجَ مُجَاهِدًا فِي سَبِيلِي إِيمَانَا بِي وَتَصْدِيقًا بِرَسُولِي فَهُوَ عَلَيَّ ضَامِنٌ أَنْ أُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ، أَوْ إِنْ رَجَعْتُهُ أَنْ أُرْجِعَهُ بِمَا نَالَ مِنْ أَجْرٍ أَوْ غَنِيمَةٍ، وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ مَا مِنْ عَبْدٍ يُكْلَمُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ كَلْمًا إِلَّا جَاءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَوْنُهُ لَوْنُ دَمٍ وَرِيحُهُ رِيحُ مِسْكٍ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مَا قَعَدْتُ خِلَافَ سَرِيَّةٍ تَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ وَلَكِنْ لَا أَجِدُ سَعَةً فَأَحْمِلُهُمْ، وَلَا يَجِدُونَ سَعَةً وَيَشُقُّ عَلَيْهِمْ أَنْ يَتَخَلَّفُوا عَنِّي وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوَدِدْتُ أَنِّي أَغْزُو فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ، ثُمَّ أَغْزُو فَأُقْتَلُ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ اس شخص کو ضمانت دیتا ہے جو اللہ کی ذات پر یقین اور اس کے رسولوں کی تصدیق کرتے ہوئے اس کی راہ میں جہاد کے لیے نکلتا ہے تو اللہ اس پر ضامن ہے کہ وہ اسے جنت میں داخل فرمائے یا اگر اسے واپس کر دے تو اجر اور مال غنیمت کے ساتھ واپس کر دے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کی جان ہے! جس شخص کو اللہ کی راہ میں جو بھی زخم آئے، وہ قیامت کے دن آئے گا تو اس کا رنگ تو خون کے رنگ جیسا ہو گا، جبکہ اس کی خوشبو کستوری کی خوشبو جیسی ہو گی، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر میں مسلمانوں پر دشوار نہ سمجھتا تو میں اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے کسی بھی لشکر سے پیچھے نہ رہتا، لیکن میں اتنی گنجائش نہیں پاتا کہ میں انہیں سواریاں مہیا کروں اور نہ ہی وہ گنجائش پاتے ہیں اور ان پر یہ بھی گراں گزرتا ہے کہ وہ میرے ساتھ جہاد پر نہ جائیں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں خواہش رکھتا ہوں کہ میں اللہ کی راہ میں جہاد کروں تو شہید کر دیا جاؤں، پھر جہاد کروں تو شہید کر دیا جاؤں، پھر جہاد کروں تو شہید کر دیا جاؤں۔“