حدیث نمبر: 454
اَخْبَرَنَا وَکِیْعٌ، نَا سُفْیَانُ، عَنِ ابْنِ طَاؤُوْسٍ، عَنْ اَبِیْهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ ابْتَاعِ طَعَامًا، فَلَا یَبِعْهٗ حَتَّی یَکْتَالَهٗ۔ قُلْتُ لِابْنِ عَبَّاسٍ: لِمَ؟ قَالَ: اَ لَا تَرَاهُمْ یُبَایِعُوْنَ بِالذَّهَبِ وَالطَّعَامُ مُرْجًا؟.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص غلہ خریدے تو وہ اسے فروخت نہ کرے حتیٰ کہ وہ اسے ناپ لے۔“ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے کہا: کیوں؟ فرمایا: کیا تم انہیں دیکھتے نہیں کہ وہ اشرفیوں (سونے) کے بدلے میں بیع کیا کرتے تھے جبکہ غلہ آنے کی ابھی امید ہی ہوتی تھی۔
حدیث نمبر: 455
اَخْبَرَنَا وَکِیْعٌ، نَا سُفْیَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِیْنَارٍ، عَنْ طَاؤُوْسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: اَمَّا الَّذِیْ نَهٰی رَسُوْلُ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ اَنْ یُّبَاعَ حَتَّی یُقْبَضَ، فَالطَّعَامُ۔ وَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: وَلَاَ اَحْسِبُ کُلَّ شَیٍٔ اِلَّا بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قبضہ میں لینے سے پہلے جس چیز کی بیع سے منع فرمایا ہے، وہ صرف غلہ ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں ہر چیز کو غلے کے مقام پر ہی سمجھتا ہوں۔
حدیث نمبر: 456
اَخْبَرَنَا عَبْدُالرَّزَاقِ، نَا مَعْمَرٌ، عَنِ ابْنِ طَاؤُوْسٍ، عَنْ اَبِیْهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ رَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: مَنِ ابْتَاعَ طَعَامًا فَـلَا یَبِعْهٗ حَتَّی یَقْبِضَهٗ۔ قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: فَاَحْسِبُ کُلَّ شَیْئٍ بِمَنْزِلَةِ الطَّعَامِ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص غلہ خریدے تو وہ اسے فروخت نہ کرے حتیٰ کہ اسے قبضے میں لے لے۔“ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: میں ہر چیز کو غلے کے مقام پر ہی خیال کرتا ہوں۔