حدیث نمبر: 383
اَخْبَرَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ، نَا اِسْرَائِیْلُ، عَنْ اَبِیْ یَحْییَ الْقَتَّاتِ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: نَزَلَ آدَمُ بِالْحَجَرِ الْاَسْوَدِ، یَمْسَحُ بِدَمُوْعِهِ وَهُوَ اَبْیَضُ مِنَ الْکُرْسُفِ، وَاِنَّمَا۔ حیض (سودته خطایا) اَهْلِ الْجَاهِلِیَّةِ، وَمَا جَفَّتْ دَمُوْعُهٗ مُذْ خَرَجَ مِنَ الْجَنَّةَ حَتّٰی رَجَعَ اِلَیْهَا۔ ولعطاء زیادات فی اهل مکة.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے بیان کیا: آدم علیہ السلام حجر اسود کے پاس آنسو صاف کرتے ہوئے اترے، وہ پتھر روئی سے بھی زیادہ سفید تھا، (اس کی سیاہی اہل جاہلیت کے گناہوں کی وجہ سے ہے) اور وہ جب سے جنت سے نکلے ہیں تب سے ان کے آنسو خشک نہیں ہوئے حتیٰ کہ وہ اس کی طرف پلٹ گئے۔
حدیث نمبر: 384
اَخْبَرَنَا وَکِیْعٌ، نَا مَعْرُوْفُ الْمَکِّیِّ قَالَ: سَمِعْتُ اَبَا الطُّفَیْلِ یَقُوْلُ: رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَیْهِ وَسَلَّمَ وَاَنَا غُـلَامٌ یَطُوْفُ بِالْبَیْتِ عَلٰی بَعِیْرٍ، وَیَسْتَلِمُ الْحَجَرَ بِمِحْجَنِهٖ.
ترجمہ: محمد سرور گوہر
ابوالطفیل (عامر بن واثلہ بن عمرو) رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں: میں نے جبکہ میں لڑکا تھا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اونٹ پر بیت اللہ کا طواف کرتے ہوئے دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی چھڑی کے ساتھ حجر اسود کا استلام کرتے تھے۔