حدیث نمبر: 257
أَخْبَرَنَا جَرِيرٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَوْسٍ قَالَ: لَمَّا مَرِضَ أَبُو مُوسَى بَكَتْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ فَقَالَ لَهَا: أَمَا سَمِعْتِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقَالَتْ: بَلَى، فَلَمَّا مَاتَ قَالَ يَزِيدُ: لَقِيتُ الْمَرْأَةَ فَقُلْتُ لَهَا: مَا قَالَ أَبُو مُوسَى لَكِ: أَمَا سَمِعْتِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَقُلْتِ: بَلَى، فَقَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((لَيْسَ مِنَّا مَنْ سَلَقَ وَحَلَقَ وَمَنْ خَرَقَ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر
یزید بن اوس نے بیان کیا: جب ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو ان کی اہلیہ ان پر رونے لگیں، انہوں نے ان سے فرمایا: کیا تم نے سنا نہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں، پس جب وہ فوت ہو گئے، یزید نے کہا: میں اس خاتون محترمہ سے ملا اور ان سے کہا: ابوموسیٰ نے آپ سے کیا کہا تھا؟ کیا تم نے وہ سنا نہیں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے، تو میں نے کہا: کیوں نہیں، پس انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو (اظہار غم کے لیے) بین کرے، یا بال منڈوائے یا کپڑے پھاڑے وہ ہم میں سے نہیں۔“
حدیث نمبر: 258
أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الْأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ سَهْمِ بْنِ مِنْجَابٍ، عَنِ الْقَرْثَعِ قَالَ: لَمَّا ثَقُلَ أَبُو مُوسَى صَاحَتِ امْرَأَتُهُ، فَقَالَ أَبُو مُوسَى لَهَا: أَمَا عَلِمْتِ مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَتْ: بَلَى، فَسَكَتَتْ، فَقِيلَ لَهَا بَعْدُ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: ((لَعَنَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ سَلَقَ وَمَنْ حَلَقَ وَمَنْ خَرَقَ)).
ترجمہ: محمد سرور گوہر
قرثع نے بیان کیا: جب ابوموسی رضی اللہ عنہ بیمار ہوئے تو ان کی اہلیہ نے چیخ و پکار کی، ابوموسی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا: کیا تمہیں معلوم نہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ انہوں نے کہا: کیوں نہیں؟ پس وہ خاموش ہو گئیں، بعد میں ان سے پوچھا گیا، تو انہوں نے فرمایا: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے (اظہار غم کے لیے) بین کرنے والے، بال منڈوانے والے اور کپڑے پھاڑنے والے پر لعنت فرمائی ہے۔“