کتب حدیثمسند عبدالله بن عمرابوابباب: حدیث نمبر:70
حدیث نمبر: 70
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْخَزَّازُ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنِ الْمُعَلَّى بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ قُعَيْصٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ، فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي، وَلَسْتُ مِنْهُ، وَلا يَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ، وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ، وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي، وَأَنَا مِنْهُ، وَسَيَرِدُ عَلَى الْحَوْضِ " .
حافظ محمد فہد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میرے بعد امراء ہوں گے جس نے ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر تعاون کیا وہ نہ مجھ سے ہے اور نہ میں اس سے ہوں اور وہ میرے پاس حوض کوثر پر نہیں آ سکے گا اور جس نے ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق نہ کی اور ان کے ظلم پر ان سے تعاون نہ کیا تو وہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں اور وہ میرے حوض پر آئے گا۔“
حوالہ حدیث مسند عبدالله بن عمر / حدیث: 70
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج حدیث «مسند احمد: 191/5، رقم الحديث: 5702، وقال احمد شاكر: اسناده صحيح، مسند البزار: 12/230، رقم الحديث: 5950، مجمع الزوائد: 5/246، رقم الحديث: 9262، سنن ترمذي، السفر، باب ما جاء فى فضل الصلاة، رقم الحديث: 614»
ہیثمی نے کہا کہ اس کی سند میں ابراہیم بن قعیس ہے اسے ابوحاتم نے ضعیف کہا ہے، لیکن ابن حبان نے اس کی توثیق کی ہے۔ امام ترمذی نے اسے ’’حسن غریب‘‘ اور محدث البانی نے اسے ’’صحیح‘‘ کہا ہے۔