کتب حدیثمسند عبدالله بن عمرابوابباب: حدیث نمبر:49
حدیث نمبر: 49
حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا يَحْلِبَنَّ أَحَدُكُمْ مَاشِيَةَ أَحَدٍ إِلا بِإِذْنِ أَهْلِهِ، أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُؤْتَى خِزَانَتُهُ، فَتُكْسَرَ، فَيُنْتَثَلَ مَا فِيهَا، إِنَّمَا ضُرُوعُ مَوَاشِيهِمْ خَزَائِنُهُمْ " .
حافظ محمد فہد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی کسی کے جانور کا اس کے مالک کی اجازت کے بغیر دودھ نہ دھوئے۔ کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کا خزانہ توڑ کر اس میں سے سب کچھ نکال لیا جائے۔ بے شک جانوروں کے تھن بھی ان کے مالکوں کے خزانے ہیں۔“
حوالہ حدیث مسند عبدالله بن عمر / حدیث: 49
درجۂ حدیث محدثین: صحیح
تخریج حدیث «صحيح بخاري: اللقطة: باب لا تحتلب ماشية أحد بغير اذنه رقم: الحديث: 2435، صحيح مسلم: اللقطة: باب تحريم حلب الماشية بغير اذن مالكها: رقم الحديث: 1726»