کتب حدیثمسند عبدالله بن عمرابوابباب: حدیث نمبر:44
حدیث نمبر: 44
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ صُقَيْرٍ، حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ أَعْيَنَ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَكُونُ مِنْ أَهْلِ الصَّلاةِ، وَالزَّكَاةِ، وَالْحَجِّ، وَالْعُمْرَةِ، وَالصِّيَامِ، وَالْجِهَادِ، حَتَّى ذَكَرَ سِهَامَ الْخَيْرِ، وَمَا يُجْزَى يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلا بِقَدْرِ عَقْلِهِ " .
حافظ محمد فہد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک آدمی نمازی، زکاۃ دینے والا، حج اور عمرہ کرنے والا، روزے رکھنے والا اور جہاد کرنے والا ہوتا ہے حتی کہ بہت سے امور خیر کا ذکر کیا اور وہ قیامت کے دن اجر و ثواب اپنی نیت کے مطابق حاصل کرتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند عبدالله بن عمر / حدیث: 44
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ الألباني: ضعيف
تخریج حدیث «المعجم الاوسط للطبراني: 3/251: رقم الحديث: 3057، شعب الايمان للبيهقي: 6/351: رقم الحديث: 4316، مجمع الزوائد: 8/28: رقم الحديث: 12719، السلسلة الضعيفة: 12/101: رقم الحديث: 5557»
اس کی سند منصور بن صقیر الجزری ہے، اسی وجہ سے ہیثمی اور محدث البانی نے اسے ’’ضعیف‘‘ قرار دیا ہے۔