حدیث نمبر: 29
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفَّى، حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ شَرِيكٍ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ كُلَيْبِ بْنِ وَائِلٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لا تُسَاكِنُوا الأَنْبَاطَ فِي بِلادِهِمْ، فَإِنْ نَازَعُوكُمُ الْكَلامَ وَاخْتَبَئُوا فِي الأَقْنِيَةِ، فَالْهَرَبَ الْهَرَبَ، وَلا تُنَاكِحُوا الْخُوزَ، فَإِنَّ لَهُمْ أُصُولا تَدْعُو إِلَى غَيْرِ الْوَفَاءِ " .
حافظ محمد فہد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: نبطی قبائل کے ساتھ ان کے شہروں میں سکونت اختیار نہ کرو۔ اور اگر وہ تم سے بات چیت میں اختلاف کریں تو ان سے گریز کرو۔ ان سے بچ کر رہو، ان سے بچ کر رہو اور خوزستانیوں سے شادی نہ کرو، کیونکہ ان کی جڑوں میں بے وفائی ہے۔