کتب حدیثمسند عبدالله بن عمرابوابباب: حدیث نمبر:18
حدیث نمبر: 18
حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ أَبِي يَزِيدَ، حَدَّثَنَا عَدِيُّ بْنُ الْفَضْلِ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّهُ قِيلَ لَهُ : إِنَّكَ تُزَاحِمُ عَلَى الرُّكْنَيْنِ زِحَامًا مَا رَأَيْنَا أَحَدًا يَفْعَلُ كَفِعْلِكَ، فَقَالَ : إِنْ أَفْعَلْ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ : " إِنَّ مَسْحَهُمَا يَحُطَّانِ الْخَطَايَا حَطًّا " .
حافظ محمد فہد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، ان سے دریافت کیا گیا: آپ دو رکنوں پر (شدید) مزاحمت کرتے ہیں، جبکہ ہم نے کسی اور کو آپ کی طرح کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے، تو انہوں نے کہا: اگر میں اس طرح کرتا ہوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”بے شک ان کا چھونا، گناہوں کو مٹا دیتا ہے۔“
حوالہ حدیث مسند عبدالله بن عمر / حدیث: 18
درجۂ حدیث محدثین: قال الشيخ الألباني: صحيح
تخریج حدیث «مسند احمد: 9/513: رقم الحديث: 5701، سنن نسائي: مناسك الحج: باب ذكر الفضل فى الطواف بالبيت: رقم الحديث: 2919، صحيح ابن خزيمة: 4/218: رقم الحديث: 2729، ابن خزيمه»
محدث البانی اور احمد شاکر نے اسے ’’صحیح‘‘ قرار دیا ہے۔