حدیث نمبر: 4
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنِ اقْتَنَى كَلْبًا إِلا كَلْبَ صَيْدٍ، أَوْ كَلْبَ مَاشِيَةٍ، أَوْ كَلْبَ مَخَافَةٍ، نَقَصَ مِنْ عَمَلِهِ كُلَّ يَوْمٍ قِيرَاطَانِ " . قِيلَ : يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّا كُنَّا نَسْمَعُ : قِيرَاطٌ، قَالَ : سَمِعَ أُذُنَايَ، وَالَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ : قِيرَاطَانِ، قَالَ مُحَمَّدٌ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِنَافِعٍ، فَقَالَ : قَدْ سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ يَقُولُ، وَلَمْ أَسْمَعْهُ يَقُولُ : كَلْبَ مَخَافَةٍ .
حافظ محمد فہد
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، انہوں نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کتا پالا شکار کے کتے یا جانوروں کی رکھوالی کے یا دشمن کو ڈرانے والے کتے کے علاوہ تو روزانہ اس کے (نیک) عمل سے دو قیراط کم ہو جاتے ہیں۔“ (عبداللہ بن عمر سے) سوال ہوا، ابو عبدالرحمن! ہم تو ایک قیراط سنتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: مجھے اس ذات کی قسم! جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں، میرے کانوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم دو قیراط کہہ رہے تھے۔ محمد بن عبدالرحمن، ابن ابی لیلیٰ کہتے ہیں: میں نے یہ بات نافع رحمہ اللہ سے ذکر کی تو انہوں نے کہا: میں نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا، لیکن میں نے کلب مخافة (ڈرانے والے کتے) کے الفاظ ان سے نہیں سنے۔