حدیث نمبر: 281
أنا شُعْبَةُ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلامُ، قَالَ : بَعَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَيْشًا وَأَمَّرَ عَلَيْهِمْ رَجُلا، فَأَوْقَدَ نَارًا، فَقَالَ : ادْخُلُوهَا، فَأَرَادَ نَاسٌ أَنْ يَدْخُلُوهَا، وَقَالَ آخَرُونَ : إِنَّمَا فَرَرْنَا مِنْهَا، فَذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لِلَّذِينَ أَرَادُوا أَنْ يَدْخُلُوهَا : " لَوْ دَخَلْتُمُوهَا، لَمْ تَزَالُوا فِيهَا إِلَى يَوْمِ الْقِيَامَةِ أَبَدًا "، وَقَالَ لِلآخَرِينَ قَوْلا حَسَنًا، وَقَالَ : " أَحْسَنْتُمْ، لا طَاعَةَ لأَحَدٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، إِنَّمَا الطَّاعَةُ فِي الْمَعْرُوفِ " .
ترجمہ:جناب یاسر عرفات
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور ان پر ایک آدمی کو امیر مقرر فرمایا، اس نے آگ جلائی اور کہا: اس میں داخل ہو جاؤ، کچھ لوگوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا اور دوسروں نے کہا: اسی (آگ) سے تو ہم بھاگے ہیں، یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ذکر کی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے متعلق جنہوں نے اس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تھا، فرمایا: ”اگر تم اس میں داخل ہو جاتے تو قیامت کے دن تک ہمیشہ اس میں رہتے۔“ اور دوسروں کے لیے اچھی بات کہی یا فرمایا: ”تم نے اچھا کیا، اللہ کی نافرمانی میں کسی کی بھی اطاعت نہیں ہے، اطاعت صرف نیکی میں ہے۔“