حدیث نمبر: 274
أنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي هِلالُ بْنُ خَبَّابٍ، قَالَ : سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ : ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ حَوْلَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، إِذْ ذَكَرَ الْفِتْنَةَ، أَوْ ذُكِرَتْ عِنْدَهُ، فَقَالَ : " إِذَا رَأَيْتَ النَّاسَ مَرَجَتْ عُهُودُهُمْ، وَخَفَّتْ أَمَانَاتُهُمْ، كَانوا هَكَذَا، فَشَبَّكَ بَيْنَ أَنَامِلِهِ "، فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ : فَكَيْفَ أَفْعَلُ عِنْدَ ذَلِكَ يَا نَبِيَّ اللَّهِ، جَعَلَنِي اللَّهُ فِدَاكَ ؟ قَالَ : " الْزَمْ بَيْتَكَ، وَأَمْلِكْ عَلَيْكَ لِسَانَكَ، وَخُذْ مَا تَعْرِفُ، وَذَرْ مَا تُنْكِرُ، وَعَلَيْكَ بِأَمْرِ خَاصَّةِ نَفْسِكَ، وَذَرْ عَنْكَ أَمْرَ الْعَامَّةِ " .
ترجمہ:جناب یاسر عرفات
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ اسی دوران ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارد گرد تھے کہ اچانک آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتنے کا ذکر کیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تو لوگوں کو دیکھے کہ ان کے عہد و پیمان کھوٹے ہو گئے ہیں اور ان کی امانتیں ہلکی ہو گئی ہیں اور وہ اس طرح ہو گئے ہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیوں کے پوروں کے درمیان تشبیک دی۔ تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف کھڑا ہوا اور گویا ہوا: اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم! اس وقت میں کیسے کروں اللہ مجھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے گھر کو لازم کر لے، اپنے اوپر اپنی زبان کو روک لے، پکڑ جسے تو پہچانتا ہے اور چھوڑ دے جس کا تو انکار کرتا ہے، تجھ پر خاص اپنی جان کا معاملہ لازم ہے اور اپنے آپ سے عوام کا معاملہ چھوڑ دے۔“