حدیث نمبر: 269
نا مِسْعَرٌ، عَنِ الْحَجَّاجِ مَوْلَى ثَعْلَبَةَ، عَنْ قُطْبَةَ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ : قَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ : مَنْ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ؟ فَقَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ أَرْقَمَ : أَمَا إِنَّكَ قَدْ عَلِمْتَ : " أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنْ شَتْمِ الْهَلْكَى "، فَلِمَ تَسُبُّ عَلِيًّا وَقَدْ مَاتَ .
ترجمہ:جناب یاسر عرفات
قطبہ بن مالک نے کہا کہ مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے کہا: علی بن ابی طالب کون ہیں؟ تو زید بن ارقم رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: سنیں! یقیناً آپ رضی اللہ عنہ کو معلوم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فوت شدگان کو برا بھلا کہنے سے منع کیا ہے تو آپ علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کیوں کہہ رہے ہیں، حالانکہ وہ فوت ہو چکے ہیں۔