حدیث نمبر: 266
أَخْبَرَنَا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ، ذَهَبَ إِلَى أَبِيهِ وَهُوَ بِالْعَقِيقِ فِي أَرْضٍ لَهُ مُعْتَزِلٍ، فَقَالَ : يَا أَبَتَاهُ، لَمْ يَبْقَ مِنْ أَصْحَابِ بَدْرٍ غَيْرُكَ، وَلا مِنْ أَهْلِ الشُّورَى غَيْرُكَ، فَلَوْ أَنَّكَ ابْتَغَيْتَ بِنَفْسِكَ وَنَصَبْتَهَا لِلنَّاسِ، مَا اخْتَلَفَ عَلَيْكَ اثْنَانِ، فَقَالَ : لِهَذَا جِئْتَ، أَيْ بُنَيَّ، أَفَعَمِدْتَ حَتَّى إِذَا لَمْ يَبْقَ مَنْ أَحَكِي إِلا مِثْلَ طَمَى الدَّابَّةِ، ثُمَّ أَخْرُجُ، فَأَضْرِبُ أُمَّةَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعضَهَا بِبَعْضٍ، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ : " إِنَّ خَيْرَ الرِّزْقِ مَا يَكْفِي، وَخَيْرَ الذِّكْرِ الْخَفِيُّ " .
ترجمہ:جناب یاسر عرفات
محمد بن ابی عبدالرحمن بن لبیبہ نے بیان کیا کہ بے شک عمر بن سعد اپنے باپ (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کے پاس گیا، جو عقیق میں اپنی علیحدہ زمین پر موجود تھے اور کہا: اے ابا جان! اصحاب بدر اور اہل شوریٰ میں سے آپ رضی اللہ عنہ کے سوا کوئی باقی نہ رہا۔ اگر بے شک آپ رضی اللہ عنہ اپنے آپ کو اٹھائیں اور لوگوں کے لیے خود کو کھڑا کریں، تو دو آدمی بھی آپ پر اختلاف نہیں کریں گے، انہوں نے فرمایا کہ اے میرے بیٹے! میں اس کا جواب دوں گا، میں بیٹھا رہا، یہاں تک کہ جب میری زندگی چوپائے کے تیزی سے گزرنے جتنی رہ گئی ہے، پھر میں نکلوں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی امت کے بعض کو بعض سے لڑا دوں۔ بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے فرماتے ہوئے سنا ہے: ”یقیناً بہترین رزق وہ ہے جو کفایت کر جائے اور سب سے بہتر ذکر، مخفی ہے۔“