حدیث نمبر: 259
أنا زَائِدَةُ بْنُ قُدَامَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ : " إِنَّهَا سَتَكُونُ أَثَرَةٌ وَفِتَنٌ وَأُمُورٌ تُنْكِرُونَهَا "، فَقَالُوا : فَمَا تَأْمُرُ مَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ مِنَّا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " تُؤَدُّونَ الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ وَتَسْأَلُونَ اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ " .
ترجمہ:جناب یاسر عرفات
سیدنا عبداللہ (بن مسعود) رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کرتے ہیں، کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بے شک قصہ یہ ہے کہ عن قریب خود غرضی، فتنے اور ایسے امور ہوں گے، جن کا تم انکار کرو گے،“ انہوں نے کہا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! جو یہ پائے تو اسے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیا حکم دیتے ہیں؟ فرمایا: ”تم وہ حق ادا کرنا جو تم پر ہے اور جو تمہارا حق ہے وہ تم اللہ سے مانگنا۔“