حدیث نمبر: 229
عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ : " أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الْعَبْدِ وَالأَمَةِ أَحَدُهُمَا بَيْنَ شُرَكَاءَ، فَيَعْتِقُ أَحَدُهُمْ نَصِيبَهُ مِنْهُ : فَقَدْ يُوجِبُ عِتْقُهُ كُلُّهُ عَلَيْهِ، إِذَا كَانَ لِلَّذِي أَعْتَقَ نَصِيبَهُ مِنَ الْمَالِ مَا يَبْلُغُ مِنْهُ يُقَامُ فِي مَالِهِ قِيمَةَ الْعَدْلِ، فَيُرْجِعُ إِلَى الشُّرَكَاءِ نَصِيبَهُمْ وَيُخَلَّى سَبِيلُ الْمُعْتَقِ "، ذَكَرَ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .
ترجمہ:جناب یاسر عرفات
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما غلام اور لونڈی کے بارے میں فرمایا کرتے تھے کہ جن میں سے ایک کئی شریکوں کے درمیان ہو اور ان میں سے ایک اس میں سے اپنا حصہ آزاد کر دے کہ اس پر اس سارے کے سارے کو آزاد کرنا فرض ہو جائے گا، اگر اس شخص کے پاس کہ جس نے اپنا حصہ آزاد کیا اتنا مال ہو جو اس (کی آزادی) کو پہنچتا ہو، اس کے مال میں عدل کی قیمت لگائی جائے گی، وہ باقی شریکوں کی طرف ان کے حصے لوٹائے گا اور جسے آزاد کیا گیا، اس کا راستہ خالص کر دیا جائے گا۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بیان کیا۔