حدیث نمبر: 208
عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ عَامَ الْفَتْحِ وَهُوَ بِمَكَّةَ : " إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ حَرَّمَ بَيْعَ الْخَمْرِ وَالْمَيْتَةِ وَلَحْمَ الْخِنْزِيرِ "، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَرَأَيْتَ شُحُومَ الْمَيْتَةِ، فَإِنَّهُ يُدْهَنُ بِهَا السُّفُنُ، وَيُدْهَنُ بِهَا الْجُلُودُ، وَيَسْتَصْبِحُ بِهَا النَّاسُ ؟ فَقَالَ : " أَلا هِيَ حَرَامٌ، قَاتَلَ اللَّهُ الْيَهُودَ، إِنَّ اللَّهَ لَمَّا حَرَّمَ عَلَيْهِمُ الشُّحُومَ جَمَلُوهَا، ثُمَّ بَاعُوهَا وَأَكَلُوا أَثْمَانَهَا " .
ترجمہ:جناب یاسر عرفات
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ میں نے فتح والے سال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں تھے: ”بے شک اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے شرابوں، مردار اور خنزیر کے گوشت کی تجارت سے منع فرمایا ہے۔“ کہا گیا کہ اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم! مردار کی چربیوں کے بارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کیا خیال ہے؟ کیونکہ بے شک ان سے مشکیزے کو تیل لگایا جاتا ہے اور ان سے چمڑوں کو تیل لگایا جاتا ہے اور ان سے لوگ چراغ جلاتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، وہ حرام ہے، اللہ یہودیوں کو غارت کرے، بے شک جب اللہ نے ان پر چربیوں کو حرام کیا تو انہوں نے انہیں پگھلایا، پھر انہیں بیچا اور ان کی قیمت کھا گئے۔“