حدیث نمبر: 198
عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْوَدَّاكِ، حَدَّثَنِي أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ، قَالَ : أَصَبْنَا سَبَايَا يَوْمَ خَيْبَرَ، فَكُنَّا نَعْزِلُ عَنهُنَّ، وَنَحْنُ نَلْتَمِسُ مَنْ يُقَادُ بِهِنَّ مِنْ أَهْلِيهِنَّ، فَقَالَ بَعْضُنَا لِبَعْضٍ : تَعْمَلُونَ هَذَا وَفِيكُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ائْتُوهُ فَسَلُوهُ، فَأَتَيْنَاهُ فذَكَرْنَا ذَلِكَ، فَقَالَ : " مَا مِنْ كُلِّ الْمَاءِ يَكُونُ الْوَلَدُ، إِذَا قَضَى اللَّهُ أَمْرًا كَانَ "، قَالَ : فَمُرَّ بِالْقُدُورِ وَهِيَ تَغْلِي، فَقَالَ لَنَا : " مَا هَذَا اللَّحْمُ ؟ " قُلْنَا : لُحُومُ الْحُمُرِ، قَالَ : " أَهْلِيَّةٌ أَوْ وَحْشِيَّةٌ ؟ " قُلْنَا : لا، بَلْ هِيَ أَهْلِيَّةٌ، قَالَ لَنَا : " فَاكْفُوهَا "، فَكَفَأْنَاهَا وَإِنَّا لَجِيَاعٌ نَشتَهِيهَا، قَالَ : وَكُنَّا يَوْمَهَا نُوكِي الأَسْقِيَةَ .
ترجمہ:جناب یاسر عرفات
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ہم خیبر والے دن لونڈیوں کو پہنچے، ہم ان سے عزل کرتے تھے اور ہم تلاش کر رہے تھے کہ ان کے گھر والوں میں سے کون ان کا فدیہ دیتا ہے، تو ہمارے بعض نے بعض سے کہا کہ تم یہ کر رہے ہو اور تمہارے اندر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم موجود ہیں؟ سو ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ ذکر کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہر پانی سے بچہ نہیں ہوتا، جب اللہ کسی کام کا فیصلہ کر دیتا ہے تو ہو جاتا ہے۔“ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہنڈیوں کے پاس گزرے اور وہ جوش مار رہی تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کیا گوشت ہے؟“ ہم نے کہا کہ گدھوں کا گوشت ہے، فرمایا: ”گھریلو یا جنگلی؟“ ہم نے کہا کہ نہیں بلکہ گھریلو ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں فرمایا: ”ان کو انڈیل دو۔“ تو ہم نے انہیں انڈیل دیا اور بے شک ہم بھوکے تھے، ان کی خواہش رکھتے تھے، کہا کہ اور ہمیں حکم دیا جاتا تھا کہ ہم مشکیزوں کے منہ ڈوری سے باندھ کر رکھیں۔