حدیث نمبر: 155
عَنْ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي الْمُنْذِرِ مَوْلَى أَبِي ذَرٍّ، عَنْ أَبِي أُمَيَّةَ الْمَخْزُومِيِّ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُتِيَ بِلِصٍّ اعْتَرَفَ اعْتِرَافًا، وَلَمْ يُوجَدْ مَعَهُ مَتَاعٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَا أَخَالُكَ سَرَقْتَ ؟ " قَالَ : بَلَى . قَالَ : ثُمَّ قَالَ : " مَا أَخَالُكَ سَرَقْتَ ؟ " قَالَ : بَلَى . قَالَ : " فَاذْهَبُوا بِهِ فَاقْطَعُوهُ، ثُمَّ جِيئُوا بِهِ "، فَقَطَعُوهُ ثُمَّ جَاءُوا بِهِ، فَقَالَ لَهُ : " قُلْ : أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ "، قَالَ : أَسْتَغْفِرُ اللَّهَ وَأَتُوبُ إِلَيْهِ . فَقَالَ : " اللَّهُمَّ تُبْ عَلَيْهِ " .
ترجمہ:جناب یاسر عرفات
سیدنا ابوامیہ مخزومی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک چور کو لایا گیا، جس نے اعتراف (جرم) کر لیا اور اس کے ساتھ کوئی سامان نہ پایا گیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا: ”میرا نہیں خیال کہ تو نے چوری کی ہو۔“ اس نے کہا: کیوں نہیں۔ کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”میرا نہیں خیال کہ تو نے چوری کی ہو۔“ اس نے کہا: کیوں نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اسے لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ دو، پھر اسے لے کر آؤ۔“ سو انہوں نے اس کا ہاتھ کاٹا، پھر اسے لے کر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کہہ: میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔“ اس نے کہا کہ میں اللہ سے بخشش مانگتا ہوں اور اس کی طرف رجوع کرتا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ! اس کی توبہ قبول فرما لے۔“