حدیث نمبر: 150
عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ نَضْلَةَ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنَّ امْرَأَتَيْنِ كَانَتَا تَحْتَ رَجُلٍ مِنْ بَنِي هُذَيْلٍ، فَرَمَتْ إِحْدَاهُمَا الأُخْرَى بِعَمُودِ فُسْطَاطٍ فَأُسْقِطَتْ، فَاخْتَصَمُوا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا : كَيْفَ نَدِي مَنْ لا صَاحَ وَلا اسْتَهَلَّ وَلا شَرِبَ وَلا أَكَلَ ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَسَجْعٌ كَسَجْعِ الأَعْرَابِ، فَقَضَى فِيهِ بِغُرَّةٍ، وَجَعَلَهُ عَلَى عَاقِلَةِ الْمَرْأَةِ " .
ترجمہ:جناب یاسر عرفات
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک دو عورتیں جو بنو ہزیل کے ایک آدمی کے ماتحت (بیویاں تھیں) ان میں سے ایک نے دوسری کو خیمے کا ستون مارا تو اس کا حمل ساقط کر دیا گیا، وہ جھگڑا لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے اور کہا: ہم اس کی دیت کیسے دیں جو نہ چیخا نہ رویا، نہ پیا اور نہ کھایا؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا بدویوں کی سجع کی طرح، سجع کلامی ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک غلام آزاد کرنے کا فیصلہ کیا اور اسے عورت کے عصبہ رشتہ داروں پر (مقرر) کیا۔