حدیث نمبر: 145
عَنْ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّهُ أَخْبَرَهُ، أَنَّ يَهُودِيًّا رَضَّ رَأْسَ جَارِيَةٍ بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَسُئِلَتْ : مَنْ فَعَلَ هَذَا بِكِ ؟ فَقِيلَ : فُلانٌ، أَوْ فُلانٌ حَتَّى ذُكِرَ اسْمُ الْيَهُودِيِّ ؟ فَأَوْمَأَتْ بِرَأْسِهَا، أَيْ : نَعَمْ، فَدُعِيَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ، " فَأَمَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرُضَّ رَأْسُهُ بَيْنَ حَجَرَيْنِ "، أَوْ قَالَ : حِجَارَةٍ .
ترجمہ:جناب یاسر عرفات
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ بے شک ایک یہودی نے ایک لڑکی کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا، اس سے پوچھا گیا کہ تیرے ساتھ یہ کسی نے کیا؟ کہا گیا کہ کیا فلاں یا فلاں نے؟ یہاں تک کہ اس یہودی کا نام لیا گیا، اس نے اپنے سر کے ساتھ اشارہ کیا یعنی ہاں، تو اس یہودی کو بلایا گیا، اس نے اعتراف (جرم) کر لیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اس کا سر (بھی) دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا۔ یا کہا کہ پتھر کے ساتھ۔